Sunday, 16 July 2017

افســــــــــانہ   ★   مــــــردہ خـــــانہ  ★

افضل انصاری مالیگاؤں



    

  ★ مردہ خانہ ★

پیڑوں کے پتے شبنم کے بار سے جھکے جا رہے تھے، 
دھند میں آسمان چھپ چکا تھا- ٹھنڈ اس قدر کی تھی کے سوئٹر اور دوسرے کئی گرم کپڑے بدن سے لپیٹنے کے بعد بھی آگ کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی-
،میں لکڑیوں کے لئے مردہ خانے کے عقبی حصے کی طرف بڑھا ہی تھا، کہ گیٹ کے کھلنے کی آواز نے مجھے روک لیا اور میں گیٹ کی سمت بڑھ گیا..
دو کانسٹبل گیٹ کے اندر داخل ہوئے ان کے ساتھ دو عورتیں اور ایک مرد تھا جو شاید لاش کی شناخت کے لئے آئے تھے - سارے مسلسل کانپے جا رہے تھے ..
مطلوبہ لاش کی شناخت ہو چکی تھی، ان کے ہی کسی سگے کی تھی، کیونکہ سائیں سائیں کر تا ہوا مردہ خانہ چیخ و پکار سے گونج اٹھا تھا-
میں نے اپنے بارے میں تو کچھ بتایا ہی نہیں..
بیوی کے مرنے کے بعد میں اسی مردہ خانے کی ایک جانب بنی ہوئی چھوٹی سی جھوپڑی میں رہنے لگا، یہ مردہ خانہ ہی میری کل کائنات تھا، ماں کے مرنے کے بعد بابا کی عمر اسی مردہ خانے میں گزری تھی، میں اور میری بیوی دوسرے گاؤں میں رہا کرتے تھے، بابا دو دنوں تک اسی جھوپڑی میں مرے پڑے رہے،جب ایک لاش لائی گئی تو علم ہوا کہ بابا اس دنیا میں نہیں رہے- بابا کی موت کی خبر مجھے ملنے تک وہ کئی روز اسی مردہ گھر کے ایک سرد کمپارٹمنٹ میں رہے -
سرکاری قانون کے مطابق بابا کے برسر ملازمت مر جانے سے ان کی نوکری اور اسی کے ساتھ ان کی جھونپڑی بھی مجھے مل گئی -
پہلے پہل تو بڑے عجیب سے دن تھے، کوئی کام نہیں، خالی مردہ گھر لیے میں ہفتوں اور کبھی کبھی تو مہینوں بیٹھا رہ جاتا، کبھی کبھار کوئی لاش آتی اور مجھے تھوڑی سی مصروفیت مل جاتی، پھر اس لاش کو یا تو اس کے گھر والے لے جاتے یا کسی لاوارث لاش کا سرکاری طور پر کریا کرم ہو جاتا-
پھر نجانے کیا ہوا !!!!
لاشیں آنے کے وقفوں میں کمی آنے لگی، اب کی بار آنے والی لاشیں کٹی پھٹی ہوتیں، کچھ تو پوری جلی ہوئی بھی ہوتی تھیں، مجھے کسی نے بتایا کہ دنگے شروع ہوگئے ہیں، پھر کچھ لاشیں آئیں یہ زیادہ تر ایک جیسے چہرے والوں کی تھیں، ان کے سینے اور چہرے گولیوں سے چھلنی تھے-
آپ جانتے ہیں اس مردہ گھر کے کچھ مناظر بڑے عجیب ہوتے ہیں، ایک لاش کی شناخت کرنے کے لیے آئے ہوئے بوڑھے ماں باپ لاش دیکھ کر بے حد خوش ہوگئے، آپ حیران ہوں گے کہ لاش کو دیکھ کر خوشی؟؟
"نہیں نہیں! یہ ہمارا بچہ نہیں ہے، اوپر والے تیرا شکر ہے" بوڑھی عورت کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے -
ہے نا عجیب جگہ؟؟؟
یہاں آنے والی لاشیں جہاں کچھ لوگوں کو دکھ دیتی تھیں وہیں بہت سوں کو اس سے خوشی بھی ملتی تھی جب مرنے والا ان کا اپنا نہیں ہوتا تھا-
دسویں سال میں مردہ گھر کی توسیع کا کام شروع ہوا، لاشوں کو رکھنے کے لئے نئے اور وسیع تر انتظامات کیے گئے، لاشیں آتی رہیں، مردوں کی، عورتوں کی، نوجوانوں کی چھوٹے معصوم بچوں کی، کٹی پھٹی، جلی ہوئیں، گولیوں سے چھلنی، ٹکڑوں میں بٹی، ہر طرح کی لاشیں....
میں انہیں سامان ہی کی طرح برتتا تھا، ان کے پیروں میں نمبر والے ٹیگ لگانا، شناخت ہوچکی ہو تو نام لکھنا اور پھر طویل دراز کھول کر لاش اس میں رکھ دینا..
شناخت کے لئے آئے ہوئے لوگوں کو دراز کھول کھول کر سامان کی مانند ان کا دیدار کرانا، یہی میرا معمول تھا-
شاید آپ مجھے بے حس کہیں گے، لیکن مردوں کے درمیان رہنے والا بے حس کیسے کہلائے گا؟؟
اوہ!!! شاید آپ انہیں یہاں تک پہنچانے والوں کو بے حس نہیں کہہ سکتے، شاید آپ کی زبان موٹی ہوجاتی ہوگی یا آپ کے قلم خوف کے مارے خشک ہو جاتے ہوں گے!! یا اور کوئی وجہ ہوگی شاید میں نہیں جانتا، میں جاننا بھی نہیں چاہتا....
بیس سال گزر گئے، میں تنہائی کے اس جنگل میں اب بھی اکیلا تھا، کچھ برسوں تک تو میں نے اس تنہائی کو مٹانے کے لیے کوشش بھی کی مگر شاید ہماری نسل اب مجھ پر ہی ختم ہونے والی تھی، میرا گھر اب بھی ویران تھا مگر مردہ گھر کی رونقیں بڑھتی جا رہی تھیں، اب یہ مردہ گھر بہت چھوٹا محسوس ہونے لگا تھا، حکام بالا سے شکایتیں ہوئیں اور پھر ایک بار اس کی توسیع کا کام شروع ہوگیا، اب کی بار اس کی استطاعت بہت بڑھا دی گئی تھی،ویسے بھی آج شہروں کے بڑھنے کی رفتار سے زیادہ تیز قبرستانوں کے رقبے بڑھتے جا رہے ہیں، مردہ گھر میں سیکڑوں کی تعداد میں نئے دراز اوپر تلے بنائے گئے، برف کی سلوں والا طریقہ بھی ختم ہوگیا، اب ٹھنڈا، گہرا دھواں چھوڑتے نئے اور جدید دراز تعمیر ہوئے،پہلے لاشیں جلد کریا کرم کے لیے بھیج دی جاتی تھیں، مگر نئے تعمیر شدہ دراز اتنے سرد ہوجاتے تھے کہ کسی زندہ انسان کو بھی منٹوں میں لاش میں تبدیل کر دیں - اب ان میں لاشیں ہفتوں بسا اوقات مہینوں محفوظ رہتی تھیں -
اب یہ مردہ گھر ہمیشہ آباد رہنے لگا تھا، الگ الگ مذہب اور دھرم کے لوگ ایک سے لباس میں یہاں خاموشی سے اپنے آخری سفر کے انتظار میں پڑے رہتے، یہاں تو کوئی ایک دوسرے سے جھگڑتا بھی نہیں، نہ کسی کو شکایت ہوتی کہ میرے بازو میں الگ دھرم یا دوسری جاتی والوں کو کیوں رکھا گیا..
بے حد شانت اور شیتل ماحول تھا!..
مردوں کے جسموں سے نکلی ہوئی ٹھنڈک پورے ماحول میں پھیلی ہوتی..
یقین جانیے اگر آپ بھی یہاں کام کر رہےہوتے تو یہی چاہتے کہ کاش پوری دنیا مردہ گھر بن جائے...
ہے نا عجیب خواہش!!!!
مگر مجھے تو یہی سچ لگتا ہے...
رکیے!!!
شاید میں نے روشنی کا ذکر نہیں کیا...
پڑوس کے آشا نگر کی روشنی...
چھوٹی سی کمزور مگر بہت ہی پیاری سی روشنی..
وہ اکثر تتلیاں پکڑنے ادھر آ جایا کرتی تھی، مگر میرے لیے تو وہ سورج کی ایک تیز اور چمکدار کرن ثابت ہوئی، جس نے مردوں سے مجھ میں در آئی برف کو پگھلا دیا، وہ اکثر میرے پاس رک جاتی اور معصوم سی باتیں کرتی جاتی، دھنک رنگ باتیں، ایسی شفاف جیسے اس میں مکر و فریب کا شائبہ بھی نہ ہو، اس کی باتوں کو سن کر میرے ہونٹ پھیل جاتے.. شاید آپ مسکراہٹ کہتے ہوں گے .. لیکن میرے لیے تو ہونٹوں کا پھیلنا ہی تھا اور اس مردہ گھر میں ہونٹوں کا یہ پھیلاؤ بھی پہلی بار ہی تھا-
روشنی کی آمد سے میرے وجود کے بند روزنوں اور کواڑوں کی درز سے ہلکی ہلکی نور کی ایک لکیر اندر تک پہنچ رہی تھی-
لاشوں سے نمٹنے کی بعد مجھے صرف روشنی کا انتظار ہوتا، کسی روز اگر وہ نہیں آتی تو میں سارا دن بے چین رہتا..
ملک میں الیکشن کے نتائج آنا شروع ہوگئے تھے، سارا ملک نفرت کے مخصوص رنگ میں رنگ چکا تھا، انسانوں کے محافظ تماشا دیکھ رہے تھے اور جانوروں کے محافظ حکومت میں آ چکے تھے-
جانوروں کے تحفظ کے نام پر انسانوں کو مارا جانے لگا-
کئی دنوں سے روشنی بھی نہیں آئی تھی کیونکہ آشا نگر کے حالات بھی کافی خراب ہو چکے تھے،
ایک مخصوص چہرے اور پہچان والوں کو ان کے گھروں سے گھسیٹ کر باہر لایا گیا اور پھر انہیں پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا، ان کی لاشیں بھی یہیں آئیں، کچلی ہوئیں، اور بے چہرہ، صرف آنکھیں تھیں اور ان میں منجمد خوف...
میں پھر روشنی کا انتظار کرنے لگا، یہ روشنی نظر کیوں نہیں آتی؟؟ صبح کو سورج بھی مجھے اندھیرا ہی بانٹتا ہوا نظر آتا..
روشنی شاید آج آجائے گی...
29اپریل 2017
میری سنائی ہوئی کہانی کا آج آخری دن ہے- فضا میں صبح سے ہی فضا میں گھٹن اور امس ہے، درختوں کے پتے تک خوف سے رکے ہوئے اور بے حس و حرکت ہیں..
آشا نگر سے کچھ خبریں آئی ہیں..
آشا نگر میں جانوروں کے تحفظ کرنے والوں کی تعداد بڑھ چکی ہے...
شاید روشنی بھی خوفزدہ ہو گئی ہے ، اسی لئے اتنے دنوں سے وہ نہیں آئی...
لاشیں پھر آنا شروع ہوگئی ہیں ،آج ان کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے ...
میں ایک ایک کر کے ان کو ٹیگ لگاتا اور دراز میں رکھتا جا رہا ہوں ....
اچانک میری نظر سفید کپڑے کے باہر لٹکتے ہوئے ایک ہاتھ پر پڑتی ہے ، پہلے تو میں اسے نظروں کا دھوکا سمجھتا ہوں ، مگر پھر بھی ہاتھ کا وہ نشان میرے ذہن سے چپک سا گیا ہے ، میں اسے جھٹلانا چاہتا ہوں مگر وہ نشان جونک کی طرح مجھ سے چمٹا ہوا ہے، شاید وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا ہے.
میں لرزتے قدموں سے آگے بڑھتا ہوں، ایک ایک قدم سو سو من کا ہورہا ہے ، میں اس لاش کے قریب پہنچتا ہوں، لاش پر پڑے ہوئے سفید کپڑے کو ہٹانے کی کوشش سے تو مجھے یوں محسوس ہوتا کہ وہ کپڑا نہیں لوہے کی وزنی چادر ہے..
یکبارگی میں جھٹکے سے کپڑے کو پرے کر دیتا ہوں .
آہ...
روشنی...
وہ کمزور سی روشنی سی..
وہ بجھ چکی ہے ...
روشنی کی کہانی ختم ہو چکی ہے..
میری کہانی کے بھی کچھ ہی پل بچے ہوئے ہیں..
گوارا کر لیں...
میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر
میرے قدم بے جان سے ہو گئے ہیں ، مٹھیاں بھنچی ہوئیں ہیں..
میں باہر نظریں دوڑاتا ہوں ..
سورج گھنا کالا اندھیرا اگل رہا ہے..
میں روشنی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر ایک دراز کی جانب بڑھ جاتا ہوں ...
میرے ہاتھ شل ہو چکے ہیں، میرا خون برف کی طرح سرد ہو چکا ہے میرا جسم بھی اکڑ چکا ہے، اب اگلی لاش نجانے کب آئے گی اور لوگ مجھ تک اسی طرح پہنچیں گے جیسے میں اپنے باپ تک پہنچا تھا-

Sunday, 9 July 2017

افسانہ ۔۔۔ عید گاہ سے وا پسی

ڈاکٹراسلم جمشید پوریؔ      

                                    

عید گاہ سے وا پسی  

پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر وا قعہ یاد تھا۔ اُ سے یہ بھی یا د تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو وا پسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لا یا تھا۔ اُ س وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق اُڑایا تھا۔ لیکن اس کے دو ستوں کے خریدے کھلونے یکے بعد دیگرے میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ اس کے چمٹے کی ایک ضرب نے سب کو بے کا ر کر دیا تھا۔ گھر آ نے پر اس کی دادی پہلے اس سے نا راض ہو ئی تھیں او ر پھر اُ سے گلے لگا کرخوب پیار کیا اور دعائیں دی تھیں۔ اس کے وا لدین کو بچپن ہی میں اللہ میاں نے اپنے پاس بلا لیا تھا۔ اُ سے ان کی صورتیں بھی یا د نہیں تھیں۔ بعد میں دادی نے اُسے غریبی، مجبو ری، بے بسی اور لا چا ری کے لقمے کھلا کھلا کر پا لا تھا۔ اس کا بچپن دو سرے بچوں سے مختلف تھا۔ دو نوں دا دی پو تے ایک دو سرے کی کا ئنات تھے۔ اُ سے وہ دن بھی یا د تھا جب قیا مت صغریٰ نے اُسے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ ایک رات جب وہ سو رہا تھا۔بہت تیز آ ندھی آ ئی تھی۔ ہوا اور پانی نے طوفان کی شکل اختیار کر لی تھی۔بہت سے پیڑ، پھوس کی چھتیں، کچی دیواریں اور جھونپڑے زمین سے اپنا رشتہ ختم کر چکے تھے۔ ایسے میں اس کی دادی جو گھر کے اسارے میں محو خواب تھیں، چھان گرنے سے دب کر اپنے بچوں کے پاس چلی گئی تھیں۔وہ دادی دادی کرتا رو تا رہ گیا تھا۔ گاؤں کے ہی لوگوں نے دفن وغیرہ کا انتظام کیا تھا۔ وہ تقریباً پندرہ سال کا تھا۔ اس کا حال ایسا تھا گویا زندگی کی دوڑ میں تنہا رہ گیا ہو۔ اس کا اس بھری پری دنیا میں دادی کے سوا کوئی نہیں تھا۔ ان کے جانے کے بعد پڑوس کے بابا سکھ دیو نے اس کی ہمت بندھا ئی تھی۔ وہ اُ سے اپنے گھر لے گئے اور اُ سے اپنے بچے کی طرح پالا پوسا۔ گا ؤں کے اسکول سے پانچویں تک پڑھنے کے بعد اُس نے پاس کے ایک چینی مل میں مزدوری کا کام شروع کردیاتھا۔

بابا......بابا.....مجھے بیلون لینوہے

اس کے آ ٹھ سا لہ پو تے سا جد نے ایک غبارے وا لے کو دیکھ کر اسے ہا تھ پکڑ کر جھنجھو ڑا تو وہ ماضی کے صحرا میں چلتے چلتے اچانک رک گیا تھا، ماضی کے وا قعات بھی چھلاوے کی طرح غائب ہو گئے تھے۔ وہ اپنے اکلوتے پو تے کے ساتھ عید گاہ جارہا تھا۔ عیدیں تو ہر سال آ تی رہتی ہیں او ر ہر سال وہ عید کی نماز ادا کرتا تھا لیکن اس با ر وہ اپنے پو تے کے ساتھ پہلی دفعہ عید گاہ جا رہا تھا۔

بیٹا ابھی نہیں، واپسی پر لن گے۔ابھی نماز کو جا رئے ہیں۔

اس کے گا ؤں سے عید گاہ تقریباً 5کلو میٹر دورتھی۔ اس کا اپنا گا ؤں ہندو اکثریتی گا ؤں تھاوہاں مسجد نہیں تھی،پاس کے گا ؤں میں مسجد تھی۔ اکثر مسلمان جمعہ اور عید۔ بقر عید کی نما زوں کے لیے وہیں چلے جاتے تھے۔ حا مد کو عید گاہ میں ہی عید کی نماز پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ لیکن کبھی موسم کی خرا بی، کبھی وقت کی تنگی اور کبھی کام کی فرا وا نی کے باعث وہ ہر سال عید گاہ نہیں جا پاتا تھا۔ اس بار وہ کافی عرصے بعد عید گاہ کے لیے اپنے پو تے سا جد کے ہمراہ نکلا تھا۔ گا ؤں سے نماز کے لیے ایک ٹو لہ روانہ ہوا۔کچھ نو جوان اسکو ٹر اور بائک سے نکلے تھے۔ کچھ پیدل ہی چل رہے تھے۔ کتنی خو شی اور رو نق تھی ان کے چہروں پر۔وا قعی عید اللہ کا انعام ہے۔ ایک ماہ کے رو زے رکھنے کے بعد،عید کی خو شی کا عا لم ہی کچھ اور ہو تا ہے۔اللہ مسلمانوں کی محنت، صبر، لگن اور للہیت کے بدلے عید کے دن ان کے گناہ بخش دیتا ہے۔ میاں حا مد نے رمضان کے پو رے رو زے رکھے تھے۔گھر میں اس کی بہو بھی رو زے کی پابندی کرتی تھی۔ ایک پوتا اور ایک پو تی......بس یہی کائنات تھی اس کی۔بیٹا واحد .....گذشتہ دنوں ہونے وا لے ہندو مسلم فساد کی نذر ہو گیا تھا۔ بیٹے کی یاد آ تے ہی اچانک ذہن کے سا توں طبق رو شن ہو گئے۔ چار سال قبل،پس منظر کا حصہ بن چکے منا ظر، یکے بعد دیگرے نظروں کے سا منے آ نے لگے۔

ملک پر بڑا برا دن آ یا تھا۔ سرخ آ ندھی اس بار شہروں سے اُ ٹھی تھی جوشہروں، شہروں قصبات اور دیہات میں پھیل گئی تھی۔ ہندو مسلم منافرت.....ایک دوسرے کے خون کے پیا سے لوگ......عبا دت گا ہوں کو مسمار کر نے کا جنون......کیا عبادت گاہوں کی مسماری سے کوئی قوم ختم ہو جاتی ہے؟یہ وہی ہندو مسلم تھے

جنہوں نے شا نے سے شا نہ ملا کر ملک کو آزاد کرایا تھا۔ آج کیا ہو گیا ہے ان کو؟کیوں ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہیں۔ واحد بے چارہ ان حالات سے بے خبر تھا،اس نے تو گاؤں میں آ نکھ کھو لی تو اپنے باباسکھ دیو، چاچا بلدیو اور اپنے ہم عمر دوست رام اور کنور پال کو دیکھا تھا۔ وہ تو انہیں کے درمیان کھیلتا ہو ا بڑا ہوا تھا۔ پاس کے ہی شہر میں وہ ایک بیکری میں مزدوری کا کام کرتا تھا۔ اس کی تنخواہ اور گا ؤں کی محنت مزدوری سے میاں حامد کسی طرح گھر چلا رہے تھے۔ شہر میں آ نے وا لی سرخ آندھی نے بڑی تبا ہیاں مچا ئی تھیں۔ واحد بھی اس سرخ آ ندھی کی زد میں آگیا تھا۔اسے اس کے ہی سا تھیوں نے سرخ آندھی میں جھونک دیا تھا۔ غضب تو اس وقت ہوا جب وا حد کی لاش گا ؤں پہنچی۔

 حامد......او حامد....واحد کی لاش ....آئی ہےبلدیو نے میاں حا مد کو خبر دی تو اُسے جیسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ یا۔وہ بلدیو کو پکڑ کر چلا یا۔

کیوں مجاق کرو ہو۔

ابھی وہ بلدیو کے کا ندھوں کو پکڑ کر ہلا ہی رہا تھا کہ ایک گا ڑی دروا زے پر رکی۔ گاڑی کا دروا زہ کھلا اور اسٹریچر پر وا حد کی لا ش لیے دو لوگ اندر داخل ہو ئے۔ لاش کو چارپائی پر لٹا کر الٹے قدموں لوٹ گئے۔ کسی میں ان سے وا حد کی موت کے با رے میں پوچھنے کی ہمت نہیں تھی۔سا رے گا ؤں وا لوں کے سر جھکے ہو ئے تھے۔ ایک ایک کر کے سب کو پتہ چل گیا تھا کہ وا حد کو شہر میں اس کے سا تھی مزدوروں نے مار دیاتھا۔ گا ؤں کے ہندو، خود کو وا حد کا قاتل محسوس کررہے تھے۔ میاں حا مد کی حا لت عجیب تھی،ان پر سکتہ طاری ہو گیا تھا۔ آواز بند ہو گئی تھی۔ وہ لاش کو ٹکٹکی باندھے دیکھے جارہے تھے۔گویا انہیں امید ہو کہ واحد اب اٹھا اور تب اٹھا۔اور اٹھتے ہی بابا کہتا ہواان سے لپٹ جائے گا۔اچانک بہت زور سے چیختے ہوئے میاں حامد زمین پر بے سدھ گر پڑے اور بے ہوش ہوگئے۔واحد کی بیوی شکیلہ پر بھی بے ہوشی کے دور ے پڑ رہے تھے۔ ساجد اور نازو اپنی ماں کے بے ہوش جسم سے لپٹے رو رہے تھے۔بلدیو اور گاؤں کے پردھان ٹھاکر امر پال نے تدفین کا انتظام کیا۔ واحد کے جانے کے بعد سے میاں حامد کی حالت اس بوڑھے کی سی ہوگئی تھی جو لاغر ہو، کمر جھکی ہو اور اس کی لاٹھی اس سے چھین لی گئی ہو۔میاں حامد نے بچپن سے ہی بڑے نازک حالات دیکھے تھے۔قحط پڑتا تھا تو کھانے کے لالے پڑجاتے۔مٹر، باجرہ، بے جھڑ اور جو کی روٹیاں بھی دن میں ایک وقت مل جاتیں تو اللہ کا شکر ادا کرتے۔گھر، گھرکیا تھا۔ بس ایک کمرہ اور اسارا تھا۔کھیتی کی زمین نہیں تھی۔اس کے باپ داد انے بھی دوسروں کے یہاں محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالا تھا اور ایک چھوٹا سا گھر بنالیا تھا۔شروع میں باباسکھ دیو کے گھر سے ہی اسے وقت بے وقت کھانا ملتا تھا بعد میں اس نے خود بھی کھانا بنا نا شروع کردیا تھا۔

بابا......او بابا.....وہ تتلی پکڑدونا ..........کتی اچھی ہے وہ

ساجد کی آواز نے ایک بار پھر انہیں سوچ نگر کی گلیوں سے حقیقت آباد کے کچے راستوں پر لادیا تھا۔اس کا پوتا ایک تتلی کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔تتلی کبھی ادھر کبھی ادھرجاتی، لیکن ساجد کے پہنچتے ہی اڑجاتی۔ انہیں ایک پل کو لگا جیسے تتلی ان کی خوشی ہو، جو ہمیشہ اس سے آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہے۔لمحہ بھر کو لگتا کہ اب ہاتھ آئی .....اب آئی۔ لیکن پھِر پھُرسے اڑجاتی۔ بے چارے ساجد کو کیا پتہ کہ یہ تتلی ہماری قسمت میں نہیں؟ہماری قسمت میں تو ہمیشہ کے دکھ ہیں جو سردی کی راتوں جیسے طویل ہوتے ہیں۔

ساجد بیٹے۔نا۔تتلی کے پیچھے نا بھاگو۔گرپڑوگے۔کپڑے کھراب ہوجاون گے۔

کپڑے،کپڑے تو ساجد نے پہنے تھے مگر نئے نہیں تھے۔جبکہ ساجد نے پچھلے ہفتے ضد کی تھی۔

بابا مجھے بھی نئے کپڑے سلواؤ نا،میں بھی حشمت کی طرح نئے کپڑوں میں عیدگاہ جاؤں گا۔

اچھا بیٹا...لادن گے۔ بوڑھے حامد میاں نے مجبوراً کہا۔

اور انہوں نے ساجد کو پرانے کپڑوں کے ڈھیر میں سے ٹھیک ٹھاک سے کپڑے لادیے تھے۔اتفاق سے چینی مل کے باہر پرانے سستے کپڑوں کا ایک ٹھیلہ عید کے سبب لگا تھا۔ اس نے سرخ رنگ کی شرٹ اور نیلی پینٹ لے جا کر بہو کو دیے۔

ساجد کو ماں اور دادا نے بہکالیا تھا۔چھوٹی نازو کی طبیعت خراب تھی اسے ماتا نکل آئی تھی۔ وہ بہت کمزور ہوگئی تھی۔ہر وقت روتی رہتی۔مکھیاں اسے پریشان کرتیں۔حامد مکھیوں کو دیکھ کر کئی بار سوچتا۔اللہ نے مکھیاں کیوں پیدا کی ہیں۔ یہ تو سب کو پریشان ہی کرتی ہیں۔پر پھر خود ہی دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگتا کہ اللہ نے ہر چیز سوچ سمجھ کر ہی پیدا کی ہے۔

عید سے دو دن پہلے گاؤں کے حاجی لطیف ان کے پاس آئے تھے اور زکوٰۃ کے پانچ سو روپے دے گئے تھے۔انہوں نے کچھ پیسوں سے گھر کی ضروریات کو پورا کیا تھا۔ان کی تنخواہ کا بڑا حصہ نازو کی بیماری اور گھر کے خرچے میں لگ جاتا تھا۔عید کے لیے پیسے کہاں سے آتے۔زکوٰۃ کے پیسوں سے انہیں کچھ راحت ملی تھی۔انہوں نے سوچا تھا کہ اب کی عید پر وہ ساجد کو ریموٹ سے چلنے والی کار اور نازو کو پلک جھپکنے والی گڑیا خرید کر لا ئیں گے۔بہو جو جوانی ہی میں بیوہ ہوگئی تھی145 کے لیے ایک سوٹ لائیں گے۔عید گاہ جانے سے پہلے انہوں نے نہا کر اپنے پرانے دھلے کپڑے پہنے۔پھر ساجد کو تیار کیا۔ساجد کی ماں اسے عید گاہ بھیجنے کو تیار نہ تھی۔لیکن ساجد کی ضد اور میاں حامد کی مرضی کے آگے وہ مجبور ہوگئی تھی۔شوہر کی موت کے بعد اسے تو ہر وقت خدشہ لگا رہتا تھا کہیں اس کے بیٹے کو کچھ نہ ہوجائے۔گاؤں کے لوگ ساجد کو بہت پیار کرتے تھے،وہ تھا ہی بہت پیارا۔عید گاہ چلنے سے پہلے انہوں نے سویّاں کھائیں۔پھر ایک ایک روپیہ سب کو عیدی کے دیے۔انہوں نے بلدیو کے بچوں کو بھی عیدی دی تھی۔وہ ہر سال ان کے بچوں کو عیدی دیا کرتے تھے۔ساجد نے اپنے اور نازو کے روپے اپنی جیب میں رکھ لیے تھے۔گاؤں کے دس بارہ بڑے بوڑھوں، بچوں پر مشتمل یہ ٹولہ سفید کرتا پأجا مے میں ملبوس سرپر ٹوپیاں لگائے عید گاہ کے لیے نکلاتھا۔عید گاہ تک جانے کے لیے تین گاؤں کو پار کرنا پڑتا تھا۔سردیوں کا زمانہ تھا۔راستے کے دونوں جانب ہری فصلیں لہلہارہی تھیں۔گیہوں کے کھیتوں پر شباب تھا۔ دور دور تک ہرے بھرے گیہوں کے کھیت نظروں کو فرحت بخش رہے تھے۔سرسوں پھول رہی تھی۔ہرے اور پیلے رنگ نے زمین کو اس کنواری دوشیزہ سا بنا دیا تھا جس نے سبز رنگ کے کپڑوں پر پیلا دوپٹہ اوڑھ رکھا ہو، اور قدرت زمین کے ہاتھ پیلے کرنے کی تیاری کر رہی ہو۔بَٹیا کے دونوں جانب فصلوں کی مہک دیوانہ بنا رہی تھی۔ کہیں مٹر کے سفید اور جامنی پھول، کہیں ایکھ کے کھیت۔ گاؤں میں ایک آدھ کولہو بھی نظر آجاتا۔کو لہو سے گڑ کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی۔ویسے اب زیادہ تر کسان شوگر ملوں میں ہی گنا ڈالتے تھے اور نقد روپے لے آتے۔اب گاؤں میں بھی بہت کچھ بدل گیا تھا۔گاؤں کی نئی نسل کے بچے جب سے پڑھ لکھ گئے تھے اور کچھ نے باہر سروس شروع کردی تھی گاؤں کا ماحول تبدیل ہونے لگا تھا۔اب وہ پہلے جیسی بے لوث محبت نہیں رہی تھی۔پہلے گاؤں کے کسی ایک شخص کا داماد سارے گاؤں کا داماد ہوتا تھا۔اس کی اتنی خاطر کی جاتی کہ وہ خاطر مدارات میں ڈوب جا تا۔ہندو مسلم شیروشکر کی طرح مل جل کر رہتے تھے۔ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہونا، ایک دوسرے کے کام کروانا۔ چھان اٹھوانا، ایکھ بُوانا، شادی بیاہ میں ہاتھ بٹاناان کا معمول تھا۔

میاں حامد.... میاں ....تنک سستائے لیو ....رس پیو۔گرم گڑ کھالیؤ۔

مُراد پور گاؤں کے کولہو والے بزرگ چاچا ایشور نے عید گاہ جاتے قافلے کو روک لیا تھا۔مُراد پور کے گاؤں کے مسلم بھی عید گاہ جانے کو تیار تھے۔ جلد ی جلدی قافلے کی خاطر کی گئی۔قافلہ پھر آگے بڑھ گیا۔ حامد کو اطمینان ہوا کہ چلو ابھی بڑے بوڑھوں میں کم از کم اتنی محبت اور خلوص تو باقی ہے۔قافلہ اب پکی سڑک پر آگیا تھا۔

میاں حامد نے اپنے پوتے ساجد کو کندھے پر بٹھا لیا تھا۔قافلہ پکی سڑک کی ایک جانب قطار بنا کر چل رہا تھا۔ اچانک ایک تیز رفتار بس قافلے کے نزدیک سے گذری۔ سب لوگ جلدی سے ایک طرف کو نہ ہو گئے ہوتے تو معاملہ خراب ہوسکتا تھا۔

ابے اے کٹوؤ!کاں جارئے او .........؟

موٹر سائیکل پر سوار تین کم عمر اوباش قسم کے نوجوان، زور سے چلّا تے ہوئے برق رفتاری سے گذر گئے۔ننھا ساجد چونک گیا۔

بابایہ کا بول رئے تھے....؟

کچھ نا بیٹا .......یہ گندے بچے تھے ..... ....

میاں حامد کے چہرے پر ناگوار ی کے تاثرات تھے۔زمانہ کتنا بدل گیا تھا۔ بڑے چھوٹوں کا امتیازہی نہ رہا۔ بیٹے،باپ کے سامنے بیٹھتے بھی نہیں تھے۔ میاں بیوی کسی کی موجود گی میں ساتھ بیٹھنے سے بھی کتراتے تھے۔ بہو،ساس سسر کا احترام کرتی تھی۔آج سب الٹ ہوتا جارہا ہے۔یہ سب فلموں اور فیشن سے ہوا تھا۔بچوں میں فلموں کا شوق دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔وہیں سے خرافات سیکھتے ہیں۔فیشن اللہ توبہ! لڑکیاں بھی پتلون پہننے لگی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بازو کی قمیضیں۔دوپٹا یا تو گلے میں پٹے کی صورت یا پھر ندارد۔گاؤں بھی تبدیل ہوگئے تھے۔کچے مکانوں کی جگہ پختہ اور بڑے مکان، موٹر سائیکلیں اور کاریں اب اکثر دکھائی دیتیں۔ پہلے کسی کے گھر کا ر ہوتی تو اسے بڑا رئیس مانا جاتا، لوگ اس کی مثالیں دیتے تھے۔گاؤں کو شاہراہوں سے ملانے والی کچی سڑکیں کھڑنجے اورتار کول کی بننے لگی تھیں۔ علاقے میں فیکٹریاں اور مل لگنے لگے تھے ۔

فیکٹریاں اور مل لگنے لگے تھے۔ترقی اور تبدیلی کے ساتھ ساتھ انسانیت ختم ہوتی جارہی تھی۔

بابا عید گاہ کب آوے گی....؟

بس بیٹا ....وہ جو گام دکھ روہے نا ....بس وائی گام میں ہے....

بھئی جرا جلدی چلو....کہیں ایسا نہ ہو،نماز ہی چھوٹ جائے۔رمجان کی ساری محنت ہی مٹی میں مل جاوے گی۔

میاں حامد نے قافلے کے بڑے، چھوٹوں، سب کو نصیحت کی۔اور سب جلدی جلدی قدم بڑھانے لگے۔کچھ ہی دیر میں وہ اسلام پورکی سرحد میں داخل ہوگئے تھے۔ اسلام پورمسلم اکثریتی گاؤں تھا۔عید گاہ کے راستے پر دونوں طرف میلہ لگا تھا۔ساجد تو بے چین ہوا جارہا تھا۔کہیں جھولے والے آواز لگا رہے تھے۔کہیں غبارے دھاگوں سے بندھے آسمان کی سیر کو رسی تڑا رہے تھے۔گول گپے والے، چاٹ پکوڑی والے، دہی بڑے، بتاشے والے، مکا کی کھیلوں والے، آیس کریم والے، کھلونوں کی تو بہت سی دکانیں تھیں،کسی دکان پر ہر مال پانچ روپے، کسی پر ہر مال دس روپے کا بورڈ لگا تھا۔ساجد کی نظر یں چار وں طرف بکھری بازار کی رونق کو دیکھ کرہونق ہوئی جارہی تھیں وہ سب کچھ خرید لینا چاہتا تھا۔

بھیا آجاؤ۔جلدی آؤ.....نماج کھڑی ہون والی ہے۔

عید گاہ سے لوگ راستے میں آنے والوں کو پکار رہے تھے۔

قافلے نے لپک کر عید گاہ میں قدم رکھا۔ عید گاہ بہت بڑی نہیں تھی۔مغرب کی طرف مسجد جیسی عمارت کی تقریباً بیس فٹ اونچی دیوار تھی جس میں کنگورے کٹے ہوئے تھے دیوار کے آخری سروں پر دو بلند مینار تھے۔باقی دور تک خالی زمین جو سال میں دو نمازوں کے لیے اپنا دامن پھیلائے رہتی تھی۔عید میں بہت بھیڑ ہوتی تھی۔اسلام پور کے علاوہ آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی یہیں نماز پڑھنے آتے تھے۔میاں حامد بچپن سے اب تک نجانے کتنی بار عیدگاہ آئے تھے۔ نماز کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے تو ایسا لگتا گویا فرشتے زمین پر اتر آئے ہوں۔نماز کے بعد اسلام پورکے لوگ آس پاس کے لوگوں کو بغیر کچھ کھائے پیئے واپس جانے نہ دیتے میاں حامد کے ساتھ کئی بار بلدیو چاچاکے بچے بھی آجاتے تھے۔مسلمان نماز پڑھتے اور وہ سب کے جوتے چپلوں کی رکھوالی کرتے بعد میں عید گاہ میلے سے میاں حامد ان کے لیے کچھ نہ کچھ تحفے ضرور خریدتے۔وہ سب اپنے بھائی ہی توتھے۔وہ سب میاں حامد سے چھوٹے تھے۔میاں حامد کو اچھی طرح یادتھاکہ ایک بار بلدیو چاچا نے اپنی ٹریکٹر ٹرالی نکالی تھی اور گاؤں کے سارے مسلمانوں کو بھرکر عید گاہ لائے تھے۔کتنا میل ملاپ تھالوگوں میں۔گاؤں میں امن و امان تھا۔گاؤں کے حالات سیاست سے بدلے تھے۔ اب گاؤں میں بھی سیاست بڑھنے لگی تھی، پردھان اور گاؤں کے امیر لوگ ایک دوسرے کی کاٹ میں لگے رہتے۔رات کو موٹر چور ی کرواتے، صبح کو ہمدردی جتانے پہنچ جاتے۔اور دو ایک دن بعد موٹر کہیں سے بر آمد ہوجاتی۔اسی طرح بیل اور بھینس بھی غائب ہوجاتیں۔انہیں اچانک دس سال قبل کا وہ واقعہ یاد آگیا جب اس نے ایک رات بابا سکھ دیوکی بھینس چراتے مکھیا کے بڑے لڑکے کو دیکھ لیا تھا۔

چور ......چور......دیکھو بھینس چرا روئیہے۔ چاچا ...اوبابا.....

اس کی آواز پر بھینس کو بیچ میں چھوڑ کر چور فرار ہوگئے تھے۔مگر اس نے ایک چور کو پہچان لیا تھا۔اور غضب تو اس وقت ہوگیا جب اگلے دن پنچایت میں اس نے مکھیا کے بیٹے کا نام سب کے سامنے کہہ دیا۔ مکھیا کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا۔

تم جھوٹ بولت ہو ....میراوبیٹو نہیں کوئی اور ہوگا.....

نہیں ....نہیں ....میں نے اپنی آنکھن سو بیر پال کو دیکھو ہے.....

پنچو! یو مسلمان ہے ....یامارے یوہندوؤں میں پھوٹ ڈالنوچاوے ہے۔....

میاں حامد نے تو کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ بات اس کے کردار پر آجائے گی۔ نفرت کیا ہوتی ہے، اسے پتہ ہی نہ تھا۔اس نے تو کبھی کسی کو بری نظر سے بھی نہیں دیکھا۔ کیا ہندو، کیا مسلمان۔وہ تو بچپن سے ہی بابا سکھ دیو کے گھر رہ کر بڑا ہوا تھا۔انہوں نے ہی اس کی شادی کروائی تھی۔گاؤں کے کئی مسلمانوں نے اسے سمجھایابھی تھا کہ سکھ دیو کے گھر نہ رہے لیکن اس نے کسی کی نہ سنی تھی۔ پھر بابا اسے بیٹا ہی تو مانتے تھے۔ہمیشہ اس کے دکھ سکھ میں شریک رہتے۔مکھیا کے جملے نے تو جیسے میاں حامد کے سینے کو گرم سلاخوں سے داغ دیا تھا۔اس کو اتنا صدمہ پہنچا کہ وہ گم سم ہوگیا۔مانوں اس کی زبان کاٹ دی گئی ہو۔ لیکن اگلے ہی لمحے سکھ دیو اور ان کے خاندان والوں نے مکھیا اور اس کے بیٹے پر لاٹھیا ں برسانا شروع کردی تھیں۔ دونوں طرف سے زوردار حملے ہورہے تھے۔اس سے قبل کے کچھ انرتھ ہوجاتا، حامد میاں نے ایک زور کی چیخ ماری.....

بند کروکھدا کے لیے.....!

اور واقعی لڑائی کو اچانک بریک لگ گئے تھے۔

تم لوگ میرے اوپر لڑ رئے ہونا۔چلو میں گاؤں چھوڑ کرہی چلوجاتا ہوں۔

میاں حامد کی آنکھوں سے آنسو روا ں تھے، انہوں نے اپنا منھ دونوں ہتھیلیوں میں چھپا رکھا تھا۔ان کے اتنا کہتے ہی مکھیا اور بلدیو چاچا ایک ساتھ ان کی اور لپکے تھے۔

نہیں حامد......تم گام ناچھوڑو گے....

اور پھر وہ ہوا جو گاؤں والوں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔مکھیا نے اپنے بیٹے بیر پال کو سب کے سامنے مارنا شروع کر دیا۔

یاکے کارن ہی سب کچھ ہوا ہے.......

بڑی مشکل معاملہ رفع دفع ہوا تھا۔ گاؤں میں حامد کی الگ پہچان تھی۔وہ ایک ایماندار مسلمان تھا۔ جو جتنا مسلمانوں کا ہمدرد تھا اتنا ہی ہندوؤں کا بھی۔

اللہ اکبر....

امام صاحب نے نیت باندھ لی تھی سب نے دو رکعت نماز ادا کی۔ خطبہ سنا اور دعا مانگنے لگے۔میاں حامد نے خدا کی بار گاہ میں ہاتھ اٹھائے۔ان کے لب تھر تھرا رہے تھے، ہاتھ بھی لرزنے لگے۔148اے کھدا .....میرے کھدا....ہم تو بڑے گنہہ گار ہیں۔ موئے انسانوں کی کھدمت میں لگا دے۔یو جو ایک عجیب سے آندھی شہروں سے گاؤں کی اور چلی آویہے ہمیں یا سو بچا لئے......

دعا کے بعد سب ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے۔میا ں حامد جھک کر اپنے پوتے ساجد سے گلے ملے۔گلے ملتے وقت انہیں بے پناہ طمانیت اور مسرت کا احساس ہوا۔ انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ ساجد کے اندر سرایت کرگئے ہیں۔ایک چھوٹا بچہ بن گئے ہیں بچہ جو معصوم ہوتا ہے جو فرشتہ صفت ہوتا ہے۔

بابا ....بابا.....آؤ نا کھلونا لیں گے.....

ساجد نے ان کا ہاتھ کھینچاتو وہ دکانوں کی طرف چل دیے۔ساجد نے بہت سے کھلونے دیکھے۔ سب کو فیل کرتا گیا۔آخر میں اسے اسے ریموٹ سے آگے پیچھے ہونے والی ایک خوبصورت سی کار پسند آگئی۔ساجد نے ضد کرلی۔

بابا میں تو یے ہی لوں گا۔

بھیا کتنے کی ہے.....؟

بابا پورے سو روپے کی

سوروپے. ...؟میاں حامد کا منھ حیرت سے کھل گیا تھا۔

وہ سوچ میں پڑ گئے۔ ان کی جیب میں کل دوسو روپے رکھے تھے۔اگر وہ کھلونا خرید لیتے تو گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔لیکن وہ پوتے کا دل بھی توڑ نا نہیں چاہتے تھے۔آخر کار ساجد کی ضد جیت گئی۔مول بھاؤ کے بعد سودا پچاس روپے میں ہوگیا۔ پھر دونوں نے نازو کے لیے ایک آنکھیں مٹکاتی گڑیا خریدی،بابا سکھ دیو کے بچوں کے لیے بھی کھلونے اور دوسراسامان خریدا۔سامان لے کر وہ نکل ہی رہے تھے کہ اچانک گولیوں کے دھماکوں سے فضا گونج اٹھی۔اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔در اصل اس بار عید اور کانوڑیاترا آس پاس ہی تھے۔ سارے علاقے میں دہشت تھی۔ ہر طرف زعفرانی رنگ لہرا رہا تھا۔پتہ چلا کہ کانوڑیوں کا ایک جتھا اسلام پورسے گذر رہا تھا۔ان پر کسی نوجوان نے پتھر مار دیا تھا بس کیا تھا۔ کانوڑیوں نے عیدگاہ سے لوٹتے مسلمانوں کو مار نا شروع کردیا تھا۔خبر پھیلتے ہی گاؤں کے مسلمانوں نے گولیاں چلانی شروع کردی تھیں۔کانوڑیوں کی حمایت میں بھی بندوقیں گولیاں اگلنے لگی تھیں۔ گولیوں کا نشانہ بن کر کئی لوگ لاشوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔

میاں حامد نے ساجد کو گود میں اٹھا لیا اور ایک طرف کو بھاگنا شروع کردیا۔ انہوں نے قافلے کے دوسرے لوگوں کو ادھر ادھر دیکھا بھی، لیکن وہ ایک لمحہ بھی انتظار میں گنوانا نہیں چاہتے تھے۔گاؤں کے حاجی شوکت نے حامدمیاں کو اسلام پور میں ہی رکنے کو کہا۔ اسلام پور مسلمانوں کا بڑا گاؤں تھا۔ مگر حامد میاں نے منع کردیا

اور ایک طرف بھاگنے لگے۔وہ بہت تیز دوڑ رہے تھے۔ساجد کے ہاتھوں میں کار، گڑیااور دوسرا سامان تھا۔ننھے ساجد کو پتہ نہیں تھا۔ اس نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلی تھیں۔میاں حامد پکی سڑک تک آگئے تھے۔ان کے بوڑھے قدموں میں نجانے کہا ں سے طاقت آگئی تھی۔در اصل موت کا ڈر۔ خود ایک زبر دست طاقت عطا کر تا ہے اور انسان وہ کر گذرتا ہے جس کا اُسے گمان تک نہیں ہو تا۔ان کو ڈر تھا کہ اسلام پور کا معاملہ جب دوسرے گاؤں پہنچے گا تو پورے علاقے میں زہر پھیل جائے گا۔وہ اس لمحے کے آنے سے قبل ہی اپنے گاؤں پہنچ جانا چاہتے تھے۔سڑٖک پر پیچھے سے شور کی آواز یں بلند ہورہی تھیں۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا ایک بھیڑ بے تحاشہ بھاگی آرہی تھی۔لوگوں کے ہاتھوں میں تلواریں، لاٹھیاں اور بلّم تھے۔انہوں نے سڑک سے کھیتوں میں بھاگنا شروع کردیا تھا۔ اب بس ایک گاؤں پار کرنا رہ گیاتھا، جس کے پار ان کا گاؤں تھا۔ دوڑتے دوڑتے وہ تھک گئے تھے۔ گاؤں کے ایک ویران پڑے ٹیوب ویل کے پاس وہ سانس لینے کو رکے۔انہوں نے راستے سے خود کو چھپا لیا تھا تاکہ کوئی گذر ے، تو دیکھ نہ پائے۔

بابا...کیا ہوا۔آپ کیوں بھاگ رہے ہو ....؟

چپ....پ...

میاں حامد نے پوتیکے منھ پر ہاتھ رکھ دیا۔کہیں کوئی آواز نہ سن لے۔اتنے میں گاؤں میں زبر دست دھماکہ ہوا۔ لگا جیسے کہیں کوئی بم پھٹا ہو۔اسلام پور سے اٹھنے والی آندھی سرخ ہوتی جارہی تھی۔موقع ملتے ہی چنگاری، شعلہ بن رہی تھی۔ آگ گاؤں گاؤں پھیلتی جا رہی تھی۔میاں حامدکے جسم میں خوف کا ناگ بری طرح لہرایا تھا۔انہوں نے ایک بار پھر اپنا راستہ تبدیل کیا۔ اب وہ گاؤں سے نہ گذر کر کھیتوں کھیتوں اپنے گاؤں کی طرف بڑھ رہے تھے۔دوڑتے دوڑتے وہ اپنے گاؤں کی سرحد میں داخل ہوگئے تھے۔ ساجد کو نیچے اتار کر انہوں نے ایک لمبی سانس لی۔ان کادل بری طرح دھڑک رہا تھاپرانہیں اطمینان ہوگیا تھا کہ اب وہ اپنے گاؤں میں آگئے ہیں وہ گاؤں جہاں ان کی اوران کے باپ دادا کی عمریں گذری تھیں۔وہ اطمینان سے ساجد کی انگلی پکڑے گاؤں کی طرف چل پڑے۔ابھی وہ گاؤں میں داخل ہی ہوئے تھے کہ گاؤں سے ایک شور بلند ہوا۔

مارو......پکڑو......

اس سے قبل کے میاں حامد کچھ سمجھ پاتے ایک جتھا سامنے سے آتا دکھائی دیا۔ خون کی پیاسی تلواریں، قتل وغارت کا جنون اوردہشت پیدا کرنے والی آوازیں۔انہوں نے پلک جھپکتے ہی ساجد کو اپنی گود میں اٹھالیا اور جیسے ہی ایک طرف کو بھاگنا چاہا مکھیا کے بیٹے بیر پال کی دونالی سے نکلنے والی ایک بے رحم گولی نے ساجد کو نشانہ بنا لیا۔

ساجد کے جسم کو پار کرتی ہوئی گولی میاں حامد کے سینے میں پیوست ہوگئی تھی۔ گولی نے اس طرح معصوم ساجد کا جسم پار کر کے میاں حامد کو زمین کا پیوند بنا دیاتھا جیسے حرملہ کا تیر معصوم علی اصغر کے حلق سے ہوتا ہوا امام حسین کے بازو میں ترازو ہوگیا تھا۔ دونوں زمین پر آرہے۔ خون کا فوارہ دونوں جسموں سے بلند ہورہا تھا۔زمین ساکت تھی۔ آسمان خاموش تھا۔ہوا سانس لینا بھول گئی تھی۔دونوں کے خون میں لت پت لاشے پڑے تھے اورتھوڑی ہی دوری پر ساجدکی کار، نازو کی گڑیا،بہو کا سوٹ،ایک دھوتی اور ایک چھوٹی سی پیتل کی لٹیاپڑی تھی، جومیاں حامد بابا سکھ دیو کے گھر والوں کے لیے لائے تھے۔

Monday, 3 July 2017

افسانہ


افسانہ


افسانہ


افسانہ ۔ ۔ ۔ مجبوری......!!! (عقیلہ رانی،دہلی)


مجبوری......!!! (عقیلہ رانی،دہلی)




’’مجبوری‘‘ یہ چھ حرفوں سے بناایک چھوٹا سا لفظ انسان کو تماشائی بناکے رکھ دیتا ہے۔ ایماندار کو چور اور نیک کو بد میں بدل دیتا ہے۔ کسی سے چوری کراتا ہے اور کسی کو خونی بننے پر آمادہ کر دیتا ہے۔
کچھ ایسی ہی مجبوری تھی شنکر کی ’’شنکر‘‘ لمبا چوڑا قد سانولا رنگ لمبی اور خوبصورت آنکھیں اور اُن آنکھوں میں کچھ حسرتیں اور خواہشیں لیکن مجبوری اور بے بسی نے آج اُسے اس مقام پر لاکھڑا کیا جہاں لوگ اسے خونی کہنے لگے اُسے لوگ جانتے تو تھے لیکن اُس کے اندر چھپے ایک مجبور انسان کو سمجھ نہ سکے۔
شنکر ایک خوش اخلاق ، ایماندار اور محنتی لڑکا تھا کسی کو اُس سے کوئی شکوہ نہ تھا سبھی لوگ اُس کو عزت دیتے تھے۔ شنکر کی ایک بہن تھی شیلا وہ اپنے بھائی سے بھی زیادہ خوبصورت اور معصوم تھی سفید رنگ اور اُس پر گلابی گال ، گول چہرہ ، نیلی نیلی آنکھیں لیکن افسوس اِن حسین اور خوبصورت آنکھوں کواوپر والے نے روشنی سے محروم کر دیا وہ پیدائشی نابینا تھی۔ والدین کو گذرے دس برس سے زیادہ عرصہ بیت گیا، شنکر ہی ہے جو اپنی جان سے پیاری بہن کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ شنکر نے شیلا کو کبھی ماں باپ کی کمی محسوس ہونے نہیں دی۔ جب کبھی آسماں سے تارہ ٹوٹتا اور شنکر اس سے کہتا کہ وہ کوئی مانگے تو وہ ہمیشہ یہی دُعا کرتی کہ ایک بار تھوری دیر کے لیے ہی سہی اُس کی آنکھوں میں روشنی آجائے تاکہ وہ اپنے پیارے بھیّا کے چہرے کو دیکھ سکے۔شنکر بھی ہمیشہ اس کی آنکھوں کی روشنی کے لیے دعائیں مانگتا۔ دونوں ہی ایک دوسرے کے سہارے زندگی بسر کر رہے تھے۔
بے چارہ شنکر اپنی پرانی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا، بڑی مشقت کے بعد اُسے گھر سے دور ایک نئی نوکری ملی تھی۔ روز کی طرح صبح کی پہلی کرن کے ساتھ شیلا اُٹھ گئی اورگھر کے کام میں مصروف ہو گئی۔ ٹوٹا ہوا گھر اور گھر میں گذارے لائق کچھ کھانے پینے کے برتن لیکن دونوں بھائی بہن کو اپنی اس مفلسی سے کوئی شکایت نہ تھی۔
آج شنکر کی نئی نوکری کا پہلا دن ہے۔اُسے تھوڑی گھبراہٹ ہو رہی ہے، نہ جانے کیسے لوگ ہوں گے؟ اس کے ساتھ ان کا برتاؤ کیسا ہوگا؟ اسی کے ساتھ شیلا کی بھی فکر ہو رہی تھی کیونکہ اس نے اپنی بہن کواس طرح پہلے کبھی اکیلا نہ چھوڑ ا تھا۔شنکر کو چھوڑنے شیلا دروازے تک آئی اور بولی بھیّا آپ کو زیادہ دیر تو نہیں ہوگی نہ ؟ آپ اندھیرا ہونے سے پہلے گھر لوٹ آئیں گے نہ؟ شیلا کے ان سوالوں سے صاف ظاہرتھا کہ وہ گھر میں اکیلا رہنے سے ڈرتی ہے۔ شنکر نے اِسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد واپس آنے کی کوشش کرے گا۔ شنکر گھر سے دور کام کرنے چلا تو گیا مگر اِسے اپنی بہن کی فکر تھی۔ وہ سوچتا رہا نہ جانے کیا کررہی ہوگی، اس نے کھانا کھایا ہوگا یا نہیں؟ کاش! گھر میں اُس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی شخص ہوتا جس کے سہارے اُسے چھوڑ آتا لیکن آج کے دور میں بھروسے کے انسان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے اور پھر پڑوس میں بھانو بھی رہتا ہے۔ جو کچھ روز پہلے ہی خون کے الزام میں جیل سے سزا کاٹ کر آیا ہے۔ بھانو جس کو دیکھتے ہی ہیبت سوار ہوتی تھی۔کالا رنگ، بھدّا اور موٹا جسم ،چہرے پر چاکو اور چھری کے جگہ جگہ نشان ۔بھانو کی ہی بدولت شنکر کی فکر دوگنی نہیں چوگنی ہو گئی تھی۔
شیلا کو بھی اس بات کا پورا احساس تھا ۔ اس لیے شام ہونے کے بعد بے چاری گھر میں خود کو قید کر لیتی ہے اس کے علاوہ اس کے پاس دوسرا کوئی راستہ بھی نہ تھا۔ جب سے بھانو آیا تھا اس کا گھر سے نکلنا بہت کم ہو گیا تھا ۔ بھانو شیلا کو بہت پریشان کرتا تھا مگر اس نے اس کا ذکر کبھی اپنے بھائی سے نہ کیا۔ اس بدمعاش سے کون دشمنی مول لے؟ یہی سوچ کر وہ چپ تھی۔ شنکر جب بھی کام سے آتا تو آتے ہی شیلا سے پوچھتا ؟ گھر میں کون کون آیا؟ وہ کہاں پر گئی؟ کیا کھایا؟ ایک ہی تو بہن تھی اس کی اور اس پر وہ اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا۔
سب کچھ ٹھیک رہی چل رہا تھا کہ اچانک ایک دن شنکر کی طبیعت خراب ہو گئی۔ شیلا کے ضد کرنے پر شنکر ڈاکٹر کے پاس بھی چلا گیا، ڈاکٹر نے اسے آرام کی تاکید کرتے ہوئے کچھ دوائیاں لکھی اور کچھ ضروری چیک اپ بھی کروانے کو کہا۔ مالی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے شنکر چیک اپ نہ کرا سکا۔ اُس نے جو پیسے جمع کر رکھے تھے اُس سے وہ اپنی بہن کی آنکھوں کا آپریشن کرانا چاہتا تھاتاکہ وہ سب کی طرح دنیا کی خوبصورتی کو دیکھ سکے۔ شنکر نے اپنے علاج کو نظر انداز کر دیا۔ کچھ دن گذرنے کے بعد شنکر کی حالت اور خراب ہو گئی۔ شیلا رات دن اپنے بھائی کی فکر میں گھلتی جا رہی تھی اُس نے شنکر سے کہا: بھیّا آپ کسی بڑے اسپتال میں اچھے ڈاکٹر سے علاج کرائیے۔ کافی دن ہوگئے ہیں مجھے فکر ہو رہی ہے۔ اتنے میں پڑوس میں رہنے والی گومتی ماسی نے دروازے سے آواز لگائی۔
شیلا۔۔۔۔۔۔ او شیلا شیلا نے فوراً آواز پہچان لی اور شنکرسے بولی یہ ماسی بہت بولتی ہیں میں تو بازار جارہی ہوں تم ہی ان سے بات کرو۔ وہ تم سے ہی ملنے آئی ہوں گی۔ یہ کہتے ہوئے شیلا تھیلا اُٹھا کر باہر چلی جاتی ہے۔
شنکر اورماسی آپس میں بات کرتے رہے باتوں ہی باتوں میں شنکر نے ماسی سے کہا: آپ میری شیلا کا دھیان رکھا کریں۔ مجھے بڑی فکر ہوتی ہے۔ ماسی نے شیلا کا ذکر آتے ہی سوچا کہ آج بھانو کی بدتمیزیوں کے بارے میں شنکر کو سب کچھ بتادے۔ماسی نے کہا اچھا بیٹا جاتے جاتے میں ایک بات بتا دینا چاہتی ہوں شنکر نے حیرت سے کہا! کیا؟ ماسی نے ایک لمبی سانس لی اور بولی: شیلا بے چاری کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے بھانو اُسے بہت پریشان کرتا ہے اس کا گھر سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔ اتنا سننا تھا کہ شنکر غصے میں لال ہو گیا اور ماسی کے جاتے ہی بازار کی طرف چل دیا۔ کچھ دوری پر اس نے دیکھا کہ بھانو اور اس کے ساتھی بدمعاش شیلا کو پریشان کر رہے ہیں۔ شنکر زور سے بدمعاشوں پر چیختا ہے جس سے سب بھاگ کھڑے ہوتے ہیں مگر بھانو وہیں کھڑا رہتا ہے۔ شنکر غصے میں تھا اس نے قریب آتے ہی ایک زور کا طمانچہ بھانو کے گال پر مارا۔ بھانو اب اپنے قابو میں نہ رہا اُس نے گالیاں دینی شروع کر دیں اور شنکر کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی۔ شیلا ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھی اس نے شنکر کا ہاتھ پکڑا اور اُسے پکڑ کر گھر لے آئی۔
رات بھر دونوں کو نیند نہ آئی۔ شنکر کو زیادہ غصہ شیلا پر آرہا تھا جس نے اسے کچھ نہ بتایا۔ صبح جب شیلا نے شنکر کو اُٹھایا تو اس کا بدن تیز بخار سے جل رہا تھا۔شیلا نے گھبرا کر شنکر کو اُٹھایا اور بولی۔۔۔۔۔۔بھیّا آج تو آپ کو بہت تیز بخار ہے آپ کام پر مت جائیے۔
شنکر چونکہ ناراض تھا اس لیے اس کی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔ شیلا نے اسے روکنے کی کوشش کی پر یہ پہلی بار تھا کہ شنکر نے اپنی بہن کی بات نہ مانی اور کام پر چلا گیا۔ابھی کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے کہ شنکر کو چکر آنے لگے مگر وہ برابر کام میں مصروف رہا تھوڑی دیر بعد درد اور بخار برداشت سے باہر ہوگیا اور شنکر بے ہوش ہو کر زمین پرگر پڑا۔ شنکر کے دوست اسے اسپتال میں لے گئے اور شیلا کو شنکر کے بارے میں اطلاع دی۔ شیلا کے سر پر مانو آسمان ٹوٹ پڑا وہ دوڑی دوڑی اسپتال پہنچی۔ اس کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے زاروقطار روتے روتے شیلا اپنی انگلیاں شنکر کے چہرے پر پھیر کر یہ محسوس کرنا چاہتی تھی کہ اسے کہیں چوٹ تو نہیں لگی۔ شنکر نے اسے تسلی دی اور کہا : میں ٹھیک ہوں تم چپ ہو جاؤ۔ جلد ہی سب ٹھیک ہو جائیگا۔
شنکر کو اسپتال میں آٹھ ، دس دن ہو گئے تھے مگر طبیعت میں کسی طرح کا کوئی سدھار نہ تھا۔شیلا بُری طرح تھک چکی تھی اس لیے شنکر نے اسے گھر آرام کرنے بھیج دیا۔ اس کے جاتے ہی ڈاکٹر نے شنکرکو بتایا کہ چیک اپ کی رپورٹ آگئی ہیں اور وہ اس کے گھر والوں سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر کے ان باتوں سے شنکر سمجھ چکا تھا کہ رپورٹ ٹھیک نہیں ہیں ۔ شنکر نے فوراً کہا: ۔۔۔ میرے گھر میں کوئی نہیں ہے۔ آپ مجھ سے بات کر سکتے ہیں، ڈاکٹر کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا اس لیے ہچکچاتے ہوئے کہا۔۔۔ رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر چپ تھا۔ شنکر آپ بولتے کیوں نہیں؟ شنکر نے اپنے دل کو قابو میں کرتے ہوئے کہا: ڈاکٹر نے نرم لہجہ میں کہا! شنکر آپ کو دماغی کینسر ہے اور تمہارے پاس وقت بہت ہی کم ہے ہمیں افسوس ہے کہ آپ کا علاج نہ ہو سکے گااور پھر ڈاکٹر کمرے سے باہرچلا جاتا ہے۔
شنکر کو سن کر بہت صدمہ ہوا اچھا ہی ہوا کہ اس وقت شیلا موجود نہ تھی ورنہ سنتے ہی مر جاتی۔ شنکر کو اس وقت بھی اپنی فکر نہ تھی وہ تو بس شیلا کے بارے میں سوچ رہا تھا اس کے بغیر وہ کس طرح زندگی گذارے گی؟ شنکر اب عجیب کشمکش میں تھا۔ اس نے ڈاکٹر سے گھر جانے کی اجازت لی اور شیلا کو کچھ نہ بتانے کا فیصلہ کیا۔ شیلا نے جب اچانک شنکر کی آواز سنی تو اُس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اسے تو علم ہی نہ تھا کہ آج اس طرح شنکر گھر آجائیگا وہ خوشی میں بولتی جارہی تھی اور شنکر کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ شیلا کو اس بات کا احساس نہ ہو جائے ۔ اس لیے شنکر گھر سے باہر آگیا۔
دن گذرتے جارہے تھے اور شنکر کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی تھی۔ ادھر بھانو کی بدتمیزیاں بڑھتی جارہی تھیں اسے معلوم تھا کہ بیمار شنکر اب اس سے لڑنے کی تاب نہ لاسکے گا۔ بیماری اور شیلا کے فکر نے شنکر کو پوری طرح توڑ دیا۔ ایک رات تو حد ہوگئی بھانو شراب پی کر شنکر کے گھر آیا اور اس کی بیماری پر ہنسنے لگا اورگال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا! طمانچہ کا بدلا تیری جان نہیں بلکہ اب میں شیلا سے شادی کر کے اس کا بدلا لوں گا۔شنکر نے بھانو کو بُری طرح مارا اور زخمی کر کے گھر سے باہر نکال دیا۔
بھانو سے تنگ آکر شنکر نے فیصلہ کیا وہ شیلا کو خود سے دور کر دے گا۔ وہ اِسے کسی اچھے آشرم میں چھوڑ دے گا جہاں وہ اس کے مرنے کے بعد آرام سے رہ سکے۔ لہٰذا شنکر نے شیلا سے بہانا بنایا اور اِسے باہر چلنے کوکہا اور شیلا تیار ہوگئی۔ گھر سے میلوں دور ایک آشرم میں لے آیا۔ آشرم کے دروازے پر شیلا کو بیٹھایا اور بہانہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔! تم یہیں رہنا میں پانی لے کر آتا ہوں۔ شنکر دور جاکر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں سے وہ شیلا کو دیکھ رہا تھا وہ چاہتا تھا کہ کوئی اسے آشرم لے جائے اس کے بعد وہ گھر چلا جائے گا۔ کافی دیر بعد بھی جب شنکر نہ آیا تو شیلا کی فکر بڑھ گئی۔ بھیّا بھیّا!! کہہ کر پکارنے لگی۔ تاکہ ہمیشہ کی طرح شنکر اس کی آواز سن کر دوڑا چلا آئے۔ شنکر وہیں دور کھڑا دیکھ رہا تھا ۔شیلا کی آواز سن کر آشرم سے کچھ لوگ باہر آئے اور اس سے سوال کرنے لگے۔ اس نے بتایا کہ شنکر اس کا بھائی پانی لینے گیا تھا اور کافی دیر ہوگئی ہے مگر واپس نہ آیا۔ وہاں پرکھڑے سبھی لوگ سمجھ گئے کہ اس کا بھائی اسے آشرم کے دروازے پر کیوں اکیلا چھوڑ گیا۔ شیلا کے صبر کا باندھ اب ٹوٹ گیا اور وہ بھیّا بھیّا کہہ کر رونے لگی جس کی آنکھوں میں کبھی آنسو دیکھنا شنکر کو منظور نہ تھا۔ آج اس مجبوری کی وجہ سے شیلا کی آنکھیں روتے توتے سوجھ گئی اور وہ دیکھتا رہا۔ شیلا کسی قیمت پر آشرم میں جانے کے لیے راضی نہ ہوئی اسے تو اپنے بھائی کا انتظار تھا جب کافی دیر ہوگئی اور شیلا آشرم نہ گئی تو شنکر سے برداشت نہ ہوا اور وہ دوڑتا ہوا آگیا اور شیلا کو اپنے گلے سے لگا لیا۔
شنکر کو اس وقت احساس ہوگیا کہ اس کے بغیر شیلا اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔شیلا کو اب تک اپنے بھائی کی بیماری کے بارے میں معلوم نہ تھا۔ ادھر شنکر کے حالت اور زیادہ خراب ہو رہی تھی۔ شنکر اب شیلا کو ایسی جگہ پہنچا دینا چاہتا تھا جہاں پر شیلا کو کوئی بھانو جیسا شخص پریشان نہ کرے۔ جہاں اس کے اندھے پن کا کوئی فائدہ نہ اُٹھا سکے اور وہ آرام کی زندگی بسر کر سکے۔ ساتھی ہی وہ اُسے خوش دیکھ کرسکون سے مر سکے۔ پر اتنی سکونت پذیر جگہ اس دنیا میں کہاں نصیب ہوتی۔ شنکر نے بہت سوچا اور آخر میں وہ ایک نتیجہ پر پہنچا۔ اُس نے شیلا کا ہاتھ پکڑا اور ایسی جگہ لے گیا جہاں دور دور تک ریلوے لائن کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جہاں تھوڑی تھوڑی دیر بعد تیز رفتار سے ریلوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ شنکر نے شیلا کا ہاتھ پکڑا اور ایسی جگہ پر کھڑا کر دیا جہاں کچھ دیر بعد تیز رفتار سے ایک ٹرین گذرنے والی تھی۔ شیلا کو احساس ہو چکا تھا کہ اس کالاچار اور بیمار بھائی اب اس کو اپنے سے دور کرنا چاہتا ہے۔ ا س لیے اُس نے اپنے بھائی کا ہاتھ چھوڑ دیا کیونہ اسے احساس ہے کہ جہاں وہ کھڑی ہے کچھ ہی دیر بعد وہاں ہوا کی رفتار سے ایک ٹرین گذرنے والی ہے۔ شنکر کی آنکھوں میں آنسو ؤں کا سیلاب تھا۔ بے بسی اور لاچاری سے وہ نڈھال اپنی معصوم بہن کو آج اس منزل پر چھوڑ رہا تھا۔ جہاں سے وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔ شیلا اندھی تھی پر بہری نہ تھی وہ چاہتی تو اس راستے سے ہٹ سکتی تھی مگر اب وہ اپنے بھائی پر اور بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی اس لیے مسکراتی رہی۔شنکر کو اپنی معصوم بہن پر ترس آرہا تھا آج وہ کتنا بے بس، کتنا مجبور ہے وہ نہیں چاہتا کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی بہن روز تِل تِل مرے۔ شیلا ابھی بھی مسکرا رہی تھی۔ اسے ماضی کی تمام باتیں یاد آرہی تھیں کہ کس طرح اس پیارے بھائی نے مجھے انگلی پکڑ کر چلنا سیکھایا تھا۔ کس طرح وہ میرا سایا بن کر میرے ساتھ ہر وقت کھڑا رہا مگر آج اُسے مجبوری نے اس مقام پر لاکھڑا کیا۔ مگر شنکر دور کھڑا روتا رہا۔۔۔ روتا رہا۔۔۔ روتا رہا اور بس روتا رہا۔
***

Friday, 23 June 2017

راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ :۔لاجونتی ایک تجزیاتی مطالعہ

گلشن جہاں ،سنبھل



راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ :۔لاجونتی ایک تجزیاتی مطالعہ


افسانہ اردو نثر کی سب کی سب سے مقبول ترین صنف ہے جس کو انگریزی زبان میں Short story کہا جاتا ہے۔افسانے سے مراد ایسی نثری کہانی سے ہے،جس میں کسی شخص کی زندگی کا ایک اہم اور دلچسپ پہلو پیش کیا جائے،جس میں ابتداء،ارتقاء او ر خاتمہ ہو۔لیکن افسانے کا فن اتنا آسان نہیں ہے کچھ معیارات ہیں جو افسانے کی کامیابی کی راہ ہموار کرتے ہیں ،افسانہ مختصر لیکن جامع اور مربوط پلاٹ کے تحت تخلیق کیا جا نا چاہئے۔
یوں تو اردو افسانہ نگاری کا آغاز نصف انیسوی صدی سے ہو چکا تھا لیکن اس کی باقاعدہ اور معیاری بنیاد پریم چند نے رکھی۔پریم چند نے اردو افسانے کو مستحکم بنیاد عطا کی۔پریم چند کے بعد اردو افسانہ نگاری کی تاریخ میں کرشن چندر،راجندر سنگھ بیدی ،سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی یہ چاروں ایسے معتبر افسانہ نگار ہیں ،جنہوں نے فن افسانہ نگاری کو عروج عطا کیا اوراردو افسانہ نگاری میں موضوع کی وسعتیں پیدا کیں۔ ان میں راجندر سنگھ بیدی ؔ امتیازی شخصیت کے مالک ہیں ۔بیدی خارجی احوال سے زیادہ باطن کی واردات کے فنکار ہیں ۔راجندر سنگھ بیدی کے کردار زندگی کی پیچیدگیوں،نامحرومیوں کی جیتی جاگتی تصویر نظر آتے ہیں۔
راجندر سنگھ بیدیؔ : ۱۹۱۵۔۱۹۸۴
اردو افسانے کی روایت میں ایک نمایاں نام راجندر سنگھ بیدی ؔ کا ہے۔بیدیؔ ۱۹۱۵ ء کو سیالکوٹ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ان کی والدہ سیوا دیوی ہندو برہمن تھیں اور والد ہیرا سنگھ ذات کے کھتری تھے۔یہ خاندان وید کو اپنا گرنتھ ماننے کے باعث بیدی کہلاتا ہے۔راجندر سنگھ بیدی ؔ کی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۳۲ میں ہوا ابتداء میں انہوں نے محسن لاہوری کے نام سے افسانے لکھے جو مقامی اخبارات ،کالج میگزین میں شائع ہوئے۔ان کے افسانوی مجموعوں میں باسٹھ افسانے،سات مضامین اور خاکے شامل ہیں۔سات مضامین اور سات خاکے ایسے بھی ہیں جو کسی کتاب میں شامل نہیں ہیں۔ان کا پہلا افسانوی مجموعہ دانہ و دام ۱۹۴۰ میں منظر عام پر آیا۔اس کے بعد گرہن ۱۹۴۳،کوکھ جلی ۱۹۴۹،اپنے دکھ مجھے دے دو،ہاتھ ہمارے قلم ہوئے ،مکتی بودھ جیسے افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے ،ان تمام افسانوں میں بیدی کا انفرادی رنگ نمایاں ہے ،ان کے فن پاروں میں متوسط طبقے کے متنوع کرداروں ،ان کے رنگارنگ ماحول اور زندگی کے اتار چڑھاؤ سے ایک جہان معنی خلق ہوا ہے۔۱۹۸۴ کو یہ عظیم فنکار ممبئی ہندوستان میں اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔
راجندر سنگھ بیدی ؔ نے زندگی کی محرومیاں،اتارچڑھاؤ ،پنجاب کے بدحال لوگوں کی بپتا ،نیم تعلیم یافتہ خاندانوں کی رسمیں،رواداریاں ،پرانی دنیا اور نئے خیالات کی آمیزش ،معاشرے میں رائج روایات کے بندھنوں کو بہت قریب سے دیکھا تھااور ان تمام کے نتائج سے بھی بخوبی واقف تھے۔اسی لئے بیدی کے افسانوں میں انسانی زندگی کی تلخیوں اور کرب کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔بیدی ؔ کے افسانوں میں متوسط طبقے کی ہندوستانی عورت کے کردار اور مزاج کی جو تصویر کشی ملتی ہے ا س کو ان کے افسانہ نگاری کا نقطہ عروج کہا جاتا ہے۔راجندر سنگھ بیدیؔ نے زندگی کے اہم تجربات کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا اورانسانی جزبات و احساسات ،نفسیات کی گرہیں بہت چابکدستی سے کھولی ہیں۔
ان کا محور جنس و غم ہے لیکن بیدی ؔ کے یہاں غم کے اظہار کی صرف ایک صورت ہی نظر نہیں آتی بلکہ ہر کہانی میں نت نئی صورت نظر آتی ہے۔
بیدی کا شاہکار افسانہ ؛لاجونتی ایک تجزیاتی مطالعہ
’’ہتھ لائیاں کملاں نی لاجونتی د ے بوٹے‘‘
راجندر سنگھ بیدی ؔ کا شاہکار افسانہ لاجونتی ان کے بہترین افسانوی مجموعے اپنے دکھ مجھے دے دو میں شامل پہلا افسانہ ہے۔لاجونتی کا پس منظر تقسیم ہند کے بعد کے حالات ہیں۔راجندر سنگھ بیدی ؔ نے اس افسانے میں ہند و پاک کے بٹوارے کے بعد انسانی زندگیوں میں آئے سیلاب کو قلمبند کیا ہے کہ کس طرح ملک کی تقسیم کے بعد بڑے پیمانے پر ہجرت کا عمل شروع ہو گیاجس کی وجہ سے دونوں ممالک کو مختلف مسائل سے دو چار ہونا پڑا۔افسانہ لاجونتی ان مغویہ عورتوں کے درد و کرب کی روداد بیان کرتا ہے جو بدقسمتی سے تقسیم کے بعد اپنے شوہر وخاندان سے جدا ہو کر سرحد کے اس پار پہنچ گئیں تھیں۔ان مغویہ عورتوں میں سندرلال کی بیوی لاجونتی بھی تھی جو سندر سے دور سرحد کے اس پار چلی گئی تھی۔سندرلال اور لاجونتی کی جدائی کے بعد سندر کو لاجو پر کئے گئے ظلم یاد آنے لگے تھے اور اس کو اپنی غلطیوں کا احساس تھا۔اس کا دل لاجو کے بارے میں سوچ کر مضطرب ہو جاتا تھا کہ لاجونتی اس کا ہر ستم خنداں پیشانی کے ساتھ سہتی تھی ،اب لاجو کہاں ہوگی،جانے کس حال میں ہوگی ‘ہماری بابت کیا سوچ رہی ہوگی؟‘وہ کبھی آئے گی بھی کہ نہیں۔اب توسندرلال کی لاجونتی کے واپس آنے کی امید بھی ٹوٹ چکی تھی اور اس نے لاجونتی کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا۔سندرلال کا غم اب دنیا کا غم بن چکا تھا۔اس نے اپنے دکھ سے بچنے کہ لئے خود کو لو ک سیوا میں غرق کر دیا تھا اور مغویہ عورتوں کے سلسلے میں چلائے جا رہے پروگرام ’’دل مین بساؤ‘‘کا سکرٹیری چن لیا گیا تھا۔اس پروگرام کے تحت ہند اور پاکستان کے درمیان اغواشدہ عورتوں کا تبادلہ کیا جاتا اور اجڑے ہوئے گھروں کو بسانے کی مہم چلائی جا رہی تھی۔
بالآخر ایک دن اچانک لال چند نے سندرلال کو بدھائی دی کہ میں نے لاجو بھابھی کو دیکھا ہے یہ سن کر سندرلال کے ہاتھوں سے چلم گر گئی۔سندرلال نے بہت حیرانی سے پوچھا کہاں دیکھا ہے؟لال چند نے اطلاع دی کہ ’’واگہ کی سرحد پر‘‘۔سندرلال کا دل بے چین ہو اٹھا اور وہ سرحد جانے کی تیاری کرنے لگاکہ اسے لاجو کہ آنے کی خبر ملی،وہ گیا اور اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا۔لیکن اب سب کچھ تبدیل ہو چکا تھا۔جب سے لاجو ا غوا کے بعد واپس ہوئی تھی تب سے سندرلال کا رویہ ،لاجو کے ساتھ سلوک پہلے کے جیسا بالکل نہ رہا تھا بلکہ وہ لاجو کے ساتھ بہت اچھے سے پیش آتا تھا اور اپنی لاجو کو دیوی کہہ کر پکارتا تھا۔لاجونتی اپنے شوہر کے اس بدلے ہوئے رویےّ کو دیکھ کرحیران و پریشان رہنے لگی تھی۔لاجونتی اپنی ساری روئداد بیان کرکے اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنا چاہتی تھی لیکن سندرلال کچھ سننے کو تیار نہ تھا وہ ہمیشہ لاجو کو ٹال دیا کرتا تھا کہ ’’چھوڑ ویتی باتوں میں کیا رکھا ہے۔‘‘سندرلال نے اب اپنی بیوی لاجو کو مارنا پیٹنا بھی چھوڑ دیا تھا۔لیکن لاجونتی کو اپنا پہلے جیسا شوہر چاہئے تھا،وہ دنیا کے لئے خوش تھی ،لیکن اس کی روح بہت دکھی تھی۔جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا سندرلال اور لاجونتی کے درمیان فاصلے بڑھنے لگے اور دونوں شک میں مبتلا رہنے لگے۔لاجونتی دل ہی دل میں یہ سوچ کر گھٹتی رہتی کہ اب وہ اپنے شوہر کے لئے لاجو نہیں بن سکتی ،اغوا کے بعد واپسی سے وہ دیوی بن چکی ہے۔راجندر سنگھ بیدی ؔ نے زیر نظر افسانہ میں تقسیم ہند کے بعد درپیش آنے والے مسائل کوقلمبند کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات کی گرہیں بھی بڑی چابکدستی سے کھولیں ہیں۔مثال کے طور پر افسانے کا ایک اقتباس مندرجہ ذیل ہے:،
’’اور لاجونتی کی من کی من میں ہی رہی۔وہ کہہ نہ سکی ساری بات چپکی دبکی پڑی رہی اور اپنے بدن کی طرف دیکھتی رہی جو کہ بٹوارے کے بعد اب ’ دیوی‘کا بدن ہو چکا تھا۔لاجونتی کا نہ تھا۔وہ خوش تھی بہت خوش۔لیکن ایک ایسی خوشی میں سرشار جس میں ایک شک تھا اور وسوسے۔وہ لیٹی لیٹی اچانک بیٹھ جاتی جیسے انتہائی خوشی کے لمحوں مین کوئی آہٹ پا کر ایکا ایکی اس کی طرف متوجہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
راجندر سنگھ بیدی کی لاجونتی قاری کے دل و دماغ پر بہت گہرا اثر کرتی ہے۔لاجونتی کا کردار ایک زندہ کردار ہے جو انسانی زندگی کے پیچیدہ پہلوؤں کو منفرد انداز میں ا جاگر کرتی ہے ۔راجندر سنکھ بیدی نے اس کہانی میں بھی اشارے و کنایے سے کام لیا ہے ،ملک کی تقسیم سے پیش آنے والے مسائل کو انفرادی اسلوب میں بیان کیا ہے تو دوسری طرف ہمارے معاشرے میں عورت کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے بھی پردہ اٹھا یا ہے۔افسانہ لاجونتی ان تمام مغویہ عورتوں کے درد ،غم و الم۔کسک ،خلش کو سیدھا قاری کے دل میں اتار دیتا ہے جن کی اغوا سے واپسی کے بعد معاشرے کے لوگوں نے ان کو اپنا تو لیا تھا لیکن وہ دوبارہ بس کر بھی اجڑ گئیں تھیں ۔بیدیؔ کے افسانے لاجونتی کا آخری اقتباس قاری کو اس قدر متاثر کر دیتا ہے کہ لاجونتی ذہن کے گوشے گوشے میں بس جاتی ہے کہ ہمارے معاشرے کی نظر میں عورت کا وجود اتنا کمزور ہے کہ جیسے چھوئی موئی کا پودا ہاتھ لگانے سے کمہلاجاتا ہے ویسے ہی کسی دوسرے مرد کے ہاتھ لگانے کے تصور سے بھی عورت دوبارہ کبھی اپنے شوہر کی بیوی نہیں بن پاتی یہی عورت کا وجود ہے ۔راجندر سنگھ بیدی ؔ نے لاجو نتی کے اس کرب کو درج ذیل اقتباس میں بیان کیا ہے:۔
’’۔۔۔۔وہ سندرلال کی وہی پرانی لاجو ہوجانا چاہتی تھی جو گاجر سے لڑپڑتی اور مولی سے مان جاتی ۔لیکن اب لڑائی کا سوال ہی نہ تھا۔سندرلال نے اسے یہ محسوس کرا دیا جیسے وہ۔۔۔۔لاجونتی کانچ کی کوئی چیز ہے جو چھوتے ہی ٹوٹ جائے گی۔۔۔اور لاجو آئینے میں اپنے سراپا کی طرف دیکھتی اور آخر اس نتیجے پر پہنچتی کہ وہ اور تو سب کچھ ہو سکتی ہے پر لاجو نہیں ہو سکتی۔وہ بس گئی‘‘ پر اجڑ گئی۔۔سندرلال کے پاس اس کے آنسو دیکھنے کے لئے آنکھیں تھیں اور نہ ہی سننے کے لئے کان!۔۔۔پربھات پھیریاں نکلتی رہیں اور محلہ ملاّشکور کا سدھارک رسالو اور نیکی رام کے ساتھ مل کر اسی آواز میں گاتا رہا۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ہتھ لائیاں کملان نی‘لاجونتی دے بوٹے۔۔۔‘‘
مندرجہ بالا تبصرہ و تزکرہ کے بعد یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ راجندر سنگھ بیدی ایک کامیاب افسانہ نگار ہیں اور ان کے افسانہ لاجونتی اس کا شاہد ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ افسانہ لاجونتی کس طرح ایک بہتر افسانہ ہونے کے ضابطے مکمل کرتا ہے۔بیدیؔ نے یہ افسانہ یوں تو تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھا ہے ۔لیکن اپنی کہانی میں اشارہ و کنایہ کا استعمال کرکے اس افسانے کو زیادہ موئثر بنا دیا ہے۔افسانہ کی کامیابی کا انحصار چند مخصوص عناصر پر ہوتا ہے۔اس میں موضوع کا انتخاب ، تمہید،پلاٹ ،کردار،مکالمے،کہانی کا پس منظر اور اختتام افسانہ قابل غور حیثیت رکھتے ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی کے افسانے اور موضوع کا انتخاب:۔ راجندر سنگھ بیدی اپنی کہانیوں کے موضوع کا انتخاب بہت سوجھ بوجھ اور سمجھداری کے ساتھ کرتے ہیں۔افسانہ لاجونتی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔افسانہ لاجونتی پڑھنے کے بعد قاری کو خود بخود ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ بیدی ؔ نے جس موضوع کا انتخاب کیا ،اس کے ساتھ انصاف کیا ہے ۔اپنی انہیں خصوصیات کے تحت افسانہ لاجونتی اردو ادب کے بہترین افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
افسانہ لاجونتی کا عنوان:۔زیر نظر افسانے کا عنوان اس افسانے کی ہیروئن لاجونتی کے نام پر رکھا گیا ہے ، مکمل افسانہ لاجونتی کے ارد گرد گھومتا ہے لیکن دوسری طرف بیدیؔ نے مجموعی تاثر کو بھی ذہن میں رکھتے ہوئے عنوان ’’لاجونتی‘‘ قائم کیا ہے۔
افسانہ لاجونتی کا آغاز:۔کسی بھی افسانے کی تمہید قاری کے دل و دماغ کو بے حد متاثر کرتی ہے گویا افسانے کی تمہید اتنی موثر ہونی چاہئے کہ پڑھنے والا ان ابتدائی جملوں سے پورے افسانے کے بارے میں ایک گہرا تاثر قبول کرے اور پورا افسانہ پڑھنے کے لئے مضطرب ہو جائے۔راجندر سنگھ بیدی اپنے افسانوں کی تمہید بہت دلچسپ،نت نئے انداز میں تخلیق کرتے ہیں۔افسانہ لاجونتی کی ابتداء ایک پنجابی گیت سے ہوتی ہے:،
’’ہتھ لائیاں کملاں نی لاجونتی دے بوٹے۔۔۔۔۔۔‘‘
یہ ابتدائی مصرع جو ایک پنجابی گیت ہے ،تجسس کو بنائے رکھتا ہے اور قاری کو مکمل کہانی پڑھنے کی طرف راغب کرتا ہے۔
افسانہ لاجونتی پلاٹ کے حوالہ سے:۔افسانہ نگار خام مواد کو ترتیب دینے کے لئے جو واقعات کے ربط و تعلق کے مطابق کہانی کا جو ڈھانچہ تیار کرتا ہے اسے پلاٹ کہتے ہیں۔افسانہ لاجونتی کا پلاٹ زندگی کے اصل احوال و واقعات اور تجربات سے مرتب کیا گیا ہے، ،راجندر سنکھ بیدی نے عبارت آرائی سے بھی کام لے کر ایک مربوط اور مسلسل پلاٹ تیار کیا ہے۔
افسانہ لاجونتی اور مکالمے:۔ راجندر سنگھ بیدی کہانی کے موضوع،عنوان،پس منظر اور کرداروں کی نسبت سے مکالموں کا استعمال بخوبی جانتے ہیں۔زیر مطالعہ افسانہ لاجونتی میں جزبات و احساسات اور واقعات کے اعتبار سے کہیں سادہ تو کہیں درد و سوز سے پر مکالمے دیکھنے کو ملتے ہیں۔جب اغوا سے واپسی کے بعد لاجونتی واپس آتی ہے اور لال چند اس کے شوہر سندرلال کو یہ خبر سناتا ہے تو فطری مکالموں کی عمدہ مثال دیکھنے کو ملتی ہے:۔
لا ل چند،‘‘ بدھائی ہو سندرلال‘‘
سندرلال نے میٹھا گڑچلم میں رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔’’کس بات کی بدھائی لال چند؟‘‘
لال چند،’’ میں نے لاجو بھابھی کود یکھا ہے‘‘
سندرلال کے ہاتھ سے چلم گر گئی اور میٹھا تمباکو فرش پر گر گیا۔’’کہاں دیکھا ہے؟‘‘اس نے لال چند کو کندھوں سے پکڑتے ہوئے پوچھا اور جلد جواب نہ پانے پر جھنجھوڑدیا۔
لال چند ،‘‘ واگہ کی سرحد پر‘‘
سندر لال نے لال چند کو چھوڑ دیا اور اتنا سا بولا’’کوئی اور ہوگی۔‘‘
یہ مکالمے انسان کے فطری جزبات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سندرلال اپنی بیوی لاجونتی کی واپسی کی امید کھو چکا تھا ۔لیکن جب لال چند اس کو لاجوکی واپسی کی خبر دیتا ہے تو وہ حیران ہوجاتا ہے اور بے ساختہ اس کے دل کی کیفیت مکالموں میں عیاں ہونے لگتی ہے۔
افسانہ لاجونتی کے کردار:۔افسانہ لاجونتی کے کردار بھی اپنے کردار کی نوعیت کے تقاضوں کو مکمل کرتے ہیں۔سندلال اور اس کی بیوی اس افسانے کے مرکزی کردار ہیں۔سندرلال بحیثیت شوہر سخت دل ہوتا ہے اور اپنی بیوی کو مارتا ہے تو دوسری طرف روایتی عورت ہونے کے ناطے لاجونتی اس کے تمام ظلم خنداں پیشانی کے ساتھ سہتی ہے۔لیکن عورت کے حقیقی کردار اور اس کے تئیں معاشرے کے روایات و نظریات لاجو کی اغوا سے واپسی کے بعد بیدیؔ بڑی چابکدستی کے ساتھ پردہ اٹھاتے ہیں۔لاجونتی کا کردار راجندر سنگھ بیدیؔ کی نایاب تخلیق ہے جو اردو افسانہ نگاری کا اہم کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔
اختتام افسانہ:۔افسانے کے اختتام پر انسانی نفسیات کی حقیقت سامنے آجاتی ہے اور افسانہ قاری کے ذہن پر حزنیہ اور فکری کیفیت چھوڑ کر اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ افسانہ لاجونتی اس اغوا عورت کی درد بھری داستان پر ختم ہو جاتا ہے جو بس کر بھی اجڑ گئی تھی اور اب وہ اپنے شوہر کی بیوی لاجو کبھی نہ بن سکتی تھی ، وہ تو صرف اس کے لئے اب دیوی بن چکی تھی۔۔پربھات پھیریاں نکلتی رہیں اور محلہ ملاّشکور کا سدھارک رسالو اور نیکی رام کے ساتھ مل کر اسی آواز میں گاتا رہا۔۔۔
’’ہتھ لائیاں کملاں نی لاجونتی د ے بوٹے‘‘
راجندر سنگھ بیدی افسانے کا اختتام کچھ ایسے فطری انداز میں کرتے ہیں جو قاری کو غیر مانوس نہیں معلوم ہوتا اور ایسا لگتا ہے کہ کہانی کا یہ انجام بڑا مناسب اور برمحل ہے۔بیدیؔ افسانے کے تمام عناصر پر ابتدا ء تا انتہا تک قادر رہ کر اپنی منفرد کہانیاں تخلیق کرتے ہیں۔ان کے افسانوں میں پائی جانے والی معروضیت ان کے جذبے کو معتدل کرتی ہے۔راجندر سنگھ بیدی ؔ اپنی کہانیوں میں انسانی کرب و مسائل کو تو پیش کرتے ہیں لیکن ان کے اسلوب کی لطافت کے سبب یہ پریشانیاں اشتہار نہیں بنتی۔بالآخر یہ کہ راجندر سنگھ نے فکر کی گہرائی اور انفرادی اسلوب کے ذریعہ اردو افسانے کو نئی معنویت عطا کی ہے اور افسانہ لاجونتی اس کی عمدہ مثال ہے۔
گلشن جہاں۔ایم۔اے(اردو۔نیٹ)،بی۔ایڈ
gulshanj97@gmail.com
SAMBHAL.244302

Tuesday, 20 June 2017

افسانہ ۔ اذان

ایم مبین

   اذان   


شاید وہ رات کا آخری پہر ہو گا۔ معمول کے مطابق آنکھ کھل گئی تھی۔ اُس نے اندازہ لگایا، شاید ۴  بج رہے ہوں  گے۔ آج آنکھ معمول سے کچھ پہلے ہی کھل گئی ہے۔
اب آنکھ بند کر کے لیٹے رہنا بھی لاحاصل تھا۔ نیند تو آنے سے رہی۔ صبح تک کروٹیں  بدلنے سے بہتر ہے کہ باہر آنگن میں  بیٹھ کر صبح کی ٹھنڈی ہواؤں  کے جھونکوں  سے لُطف اندوز ہوا جائے۔ اُس نے بستر چھوڑا اور گھر کے باہر آیا۔

چاروں  طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ گھر کے باہر بندھے جانوروں  نے تاریکی میں  بھی اُس کی آہٹ سُن لی یا شاید اُنھوں  نے اُس کی مانوس بُو سونگھ لی ہو۔ وہ اپنی اپنی زُبانوں  میں  اُسے آوازیں  دے کر اپنی موجودگی کا احساس دِلانے لگے۔
" اچھا بابا ! مجھے پتہ ہے تم لوگ جاگ رہے ہو، آتا ہوں۔ " کہتا وہ مویشی خانے کے پاس آیا۔ اُسے دیکھ کر گائے نے منہ سے آواز نکالی۔
" اب چپ بھی ہو جا۔" اُس نے گائے کی پیٹھ تھپتھپائی تو وہ زُبان نکال کر اُس کا ہاتھ چاٹنے لگی۔ اُس کے بعد بھینس، بیل، بکریاں  اور بھیڑیں  شور مچانے لگے۔
وہ اُن کو آوازیں  دیتا چپ رہنے کے لئے کہنے لگا۔
تھوڑی دیر بعد سب چپ ہو گئے تو وہ آنگن میں  رکھی کھاٹ پر آ کر بیٹھ گیا اور تمباکو نکال کر چلم بھرنے لگا۔
چلم کا ایک کش لے کر اُس نے دُور گاؤں  کی طرف ایک نظر ڈالی۔ اندھیرے میں  ڈوبا گاؤں  اُسے کسی آسیبی حویلی کی طرح دِکھائی دے رہا تھا۔وقت دھیرے دھیرے سرک رہا تھا اور اُفق پر ہلکی ہلکی سُرخی نمودار ہو رہی تھی۔لیکن ماحول پر سکوت کا وہی عالم تھا۔ اُس کے کان اُس سکوت کو توڑنے والی ایک آواز کے منتظر تھے۔
اُس سکوت کو سب سے پہلے توڑنے والی اللہ بخش کی اذان کی آواز۔
لیکن اُفق پر پَو پھٹ گئی۔ ہنومان، وِشنو، جلرام، شنکر کے مندروں  کی گھنٹیاں  بجنے لگیں۔ ساتھ بجنے والی تمام منادر کی گھنٹیوں  سے ایک بے ہنگم شور نے سنّاٹے کے سینے کو درہم برہم کر دیا۔
اور پھر وہ بھی خاموش ہو گئے۔
لیکن اللہ بخش کی آواز نہ تو فضا میں  اُبھری اور نہ اُسے اللہ بخش کی اذان کی آواز سنائی دی۔
ایک لمبی سانس لے کر اُس نے اپنے سر کو جھٹک دیا۔
وہ بھی کتنا بے وقوف ہے۔
وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ بخش اپنے بچے ہوئے خاندان کے ساتھ اُس گاؤں  کو چھوڑ کر جا چکا ہے۔ جس مسجد کے آنگن سے وہ اذان دیتا تھا وہ مسجد اب کھنڈر میں  تبدیل ہو چکی ہے۔ اُس کے اندر اب ہنومان کی مورتی رکھی ہوئی ہے۔پھر بھلا اُسے اللہ بخش کی اذان کی آواز کس طرح سُنائی دے سکتی ہے۔
اب تو اللہ بخش کو گاؤں  چھوڑے مہینوں  ہو گئے ہیں۔ پھر بھی اُس کے کان اللہ بخش کی اذان کے منتظر کیوں  رہتے ہیں؟
شاید اِس لئے کہ وہ گذشتہ چالیس برسوں  سے اللہ بخش کی اذان کی آواز سُن رہا تھا۔
دِن کے شور میں  تو اُسے اللہ بخش کی اذان کی آواز سُنائی نہیں  دیتی تھی۔لیکن فجر میں  اور عشاء میں  اُس کی اذان کی آواز ہر کوئی صاف صاف سُن سکتا تھا۔
اُسے اذان کی آواز سُن کر ایک قلبی سکون ملتا تھا۔ یہ سوچ کر کہ میری طرح میرا دوست بھی جاگ گیا ہے اور وہ اپنے خدا کی عبادت میں  لگا ہے اور عبادت میں  شریک ہونے کے لئے دُوسرے بندوں  کو پکار رہا ہے۔
چالیس سالوں  میں  ایسے بہت کم مواقع آئے تھے جب اُس نے اللہ بخش کی اذان نہ سُنی ہو۔اِن موقعوں  میں  وہ دِن تھے جب وہ کسی کام سے گاؤں  سے باہر گیا ہو یا پھر اللہ بخش کسی کام سے باہر گیا ہو گا۔
چالیس سالوں  سے وہ اذان کی آواز سُن رہا تھا۔ لیکن گذشتہ ۱۶۰ سالوں  سے وہ اللہ بخش کو جانتا تھا۔ایسا کوئی بھی دِن نہیں  گزرا تھا جب اُس کا اور اللہ بخش کا سامنا نہیں  ہوا ہو یا بات چیت نہ ہوئی ہو یا دونوں  نے مل کر ساتھ تمباکو نہ پی ہو۔
لیکن وہی اللہ بخش ایک دِن اُسے، اِس گاؤں  کو چھوڑ کر چلا گیا، جس میں  وہ پیدا ہوا تھا، پلا بڑھا تھا، جہاں  اُس کا گھر تھا، کھیت تھے، مسجد تھی۔ جسے اُس نے اپنے ہاتھوں  سے بنایا تھا۔
اور وہ جاتے ہوئے اُسے روک نہیں  سکا تھا۔
اُس میں  اللہ بخش کو روکنے کی ہمّت بھی نہیں  تھی۔ وہ کس منہ سے اُس سے کہتا۔
" اللہ بخش اِس گاؤں  کو چھوڑ کر مت جاؤ ! یہ گاؤں  تمہارا ہے، تم یہیں  پیدا ہوئے ہو۔ ہم ساتھ کھیلے ہیں ، بڑے ہوئے ہیں ، یہاں  تمہاری اولادیں  پیدا ہوئی ہیں ، اِس گاؤں  کے قبرستان میں  تمہارے ماں  باپ اور کئی رشتہ دار دفن ہیں۔ اِس گاؤں  کو چھوڑ کر مت جاؤ۔ "
اُسے پتا تھا کہ اگر وہ ایسا کہتا تو اللہ بخش کا ایک ہی جواب ہوتا۔
" رام بھائی ... ! اِس گاؤں  نے میرا جوان بیٹا چھین لیا، میرا دُوسرا بیٹا اپاہج ہو گیا، میری بہو کی طرف ناپاک ہاتھ بڑھے، لیکن میری بہو نے اُن ناپاک ہاتھوں  کو اپنے جسم کا لمس دینے سے قبل اپنی جان دے دی،اِس گاؤں  میں  میری بیٹیوں  کی عصمت تار، تار ہونے ہی والی تھی، خدا نے کسی طرح اُنھیں  بچا لیا، میرے اس کھیت کو جلا کر راکھ کر دیا گیا جو چار مہینے تک اپنے خون سے سینچ، سینچ کر میں  نے لہلہائے۔ اِس گاؤں  میں  میرے پیار کے شِوالے، میرے گھر کو توڑ دیا تھا، مسجد کو کھنڈر بنا کر اُس میں  ہنومان کی مورتیاں  رکھ دی گئیں۔ اب آگے اِس بات کی کیا گیارنٹی ہے کہ میرے کسی بیٹے کی جان لینے کی کوشش نہیں  کی جائے گی، میری بیٹیوں  کی طرف ہوسناک نظریں  نہیں  اُٹھیں  گی۔ میری عبادت گاہ مسمار نہیں  کی جائے گی ؟ "
اللہ بخش کی اِس بات کا کسی کے پاس جواب نہیں  تھا۔
اُس کی آنکھوں  کے سامنے سب کچھ ہوا تھا۔ مسجد توڑی گئی تھی اور اُس میں ہنومان کی مورتیاں  رکھی گئی تھیں ، اُس کے کھیت اور گھر جلائے گئے تھے، اُس کے بیٹوں  کو ترشولوں  سے وار کر کے مارا گیا تھا۔
اُس کی بہو، بیٹیوں  کی طرف ہوسناک ہاتھ بڑھے تھے۔
وہ چپ چاپ تماشہ دیکھتا رہا تھا۔
کسی کو روک نہیں  سکا تھا۔ گاؤں  کے کسی بھی فرد نے ان بلوائیوں کو روکنے کی کوشش نہیں  کی تھی۔
جن لوگوں  نے یہ سب کچھ کیا وہ سب اِس کے اپنے تھے، اِسی گاؤں  کے لوگ، جو اِس گاؤں  میں  پل کر جوان ہوئے تھے، وہ اللہ بخش کی گود میں  کھیلے تھے، اُس کے کھیتوں  سے آم چرا کر اُنھوں  نے کھائے تھے۔
جسے وہ اللہ بخش چاچا کہتے تھے، اُن ہی لوگوں  نے اُس کے خاندان کے ساتھ یہ سب کیا تھا۔
وہ اور اُس کے جیسے سیکڑوں  لوگ تماشہ دیکھتے رہے تھے اور اللہ بخش کو پُرسہ دینے، اپنی دوستی، تعلقات کا یقین دِلانے کے لئے اُس وقت پہنچے تھے جب اُس کا سب کچھ لُٹ گیا تھا۔
جس وقت وحشت کا یہ ننگا ناچ ہوا تھا، اُس وقت اللہ بخش گاؤں  میں  نہیں  تھا۔
وہ کسی کام سے شہر گیا تھا۔ جب وہ شہر سے لوٹا تو سب کچھ برباد ہو گیا تھا۔
اگر اللہ بخش گاؤں  میں ہوتا اور اُس کے سامنے یہ سب کچھ ہوتا تو وہ شاید زندہ نہیں  رہتا۔
یا تو وہ اُس کے بڑے بیٹے کی طرح مار دیا جاتا یا پھر یہ سب اپنی آنکھوں  سے دیکھنے کے بعد خود مر جاتا۔
اِس کے بعد وہ گاؤں  میں  نہیں  رہ سکا، اُسے اپنے زخمی خاندان کو لے کر شہر سے جانا پڑا۔
شہر سے آنے کے بعد تو اُس کا گاؤں  میں  رہنا اور بھی مشکل ہو گیا۔ اُسے دھمکیاں  ملنے لگیں۔ گاؤں  چھوڑ کر چلے جاؤ ورنہ گذشتہ بار جو نہیں  ہوا اِس بار وہ ہو گا۔ اِس بار کوئی نہیں  بچ پائے گا۔
اِس گاؤں  میں  پیدا ہوئے، پلے، بڑھے اللہ بخش کے ہزاروں  دوست، شناسا تھے، ہر کوئی اُسے جانتا تھا، ہر کسی کے اُس کے ساتھ تعلقات تھے۔
سب اللہ بخش کو تسلّی دینے گئے تھے۔
" جو ہوا بہت برا ہوا۔ "
" اگر وہ برا ہو رہا تھا تو آپ لوگوں  نے اُسے روکا کیوں  نہیں  ؟ "
اللہ بخش جب اُن سے سوال کرتا تو سب لاجواب ہو جاتے۔
اِس لئے جب اُس نے اپنے خاندان کے ساتھ گاؤں  چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو چند ہی لوگوں  نے اُسے روکنے کی کوشش کی۔
" میں  مانتا ہوں ، لیکن جو دھمکیاں  مجھے روزانہ مل رہی ہیں ، اُن کا کیا ہو گا ؟ اِس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جو کچھ میرے خاندان کے ساتھ ہوا دوبارہ نہیں  ہو گا،ہم اِس گاؤں  میں  پہلے ہی کی طرح محفوظ رہیں  گے ؟ "
لیکن اِس بات کی کوئی بھی ضمانت نہیں  دے سکا۔
" وہ بچے ہیں  اور بہک گئے ہیں ، اِس طرح بہک گئے ہیں  یا بہکا دئے گئے ہیں  کہ اُن کو راہ پر لانا ناممکن ہے اور تم تو جانتے ہو ؟ آج کل کے نوجوان کسی کی نہیں  سنتے ہیں۔ " اللہ بخش کو جواب ملتا۔
" تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ مجھے اپنے خاندان والوں  کے ساتھ یہ گاؤں  چھوڑنا پڑے گا۔ تمہارے بچے نہیں  چاہتے ہیں  کہ ہم لوگ اِس گاؤں  میں  رہیں ، جو میرا اپنا گاؤں  ہے۔ تم میں  اپنے بچوں  کو روکنے کی طاقت نہیں  ہے، اِس کا مطلب بھی صاف ہے کہ تم بھی اپنے بچوں  کے جرم میں  برابر کے شریک ہو۔ تو ٹھیک ہے، اب میں  کوئی خطرہ نہیں  لینا چاہتا۔ مجھے اور میرے خاندان کو کہیں  نہ کہیں  تو پناہ مل ہی جائے گی۔ اللہ کی زمین بہت بڑی ہے۔ "
جس دِن اللہ بخش کا خاندان گاؤں  چھوڑ کر گیا، اُسے اور اُس کے جیسے چند لوگوں  کو بہت دُکھ ہوا، لیکن گاؤں  میں  جشن منایا گیا۔ اللہ بخش کے گھر کی اینٹوں  کو تو ڑ، توڑ کر، مسجد کو توڑ کر اپنی کامیابی، فتح پر رقص کیا گیا۔ اللہ بخش کے کھیت پر قبضہ کر کے اُس کے حصّے بخرے کئے گئے۔
وہ چلا گیا، لیکن اُس کے جانے کے ساتھ اُس سے وابستہ سالوں  کی یادیں  نہیں  جاسکیں۔
وہ اللہ بخش جس کے ساتھ بچپن سے وہ کھیلتا، کودتا آیا تھا۔
جو اُس کے ساتھ ساتھ گاؤں  کی اسکول میں  پڑھا تھا۔
جس کے ساتھ وہ گاؤں ، کھیت سے وابستہ ہر مسئلے پر بحث کرتا تھا اور اللہ بخش کے نیک مشورے قبول کرتا تھا۔
عید، بقر عید کے دِن وہ جس اللہ بخش کے گھر شیر خرمہ کھانے جاتا تھا، محرم کے ایّام میں  شربت اور کھچڑا کھانے جاتا تھا، دیوالی، نو راتری پر جس کو وہ اپنے گھر بلاتا تھا۔
نو راتری کے تہوار پر جب اللہ بخش کاٹھیاواڑی لباس پہن کر ڈانڈیا کھیلتا تو کوئی اُسے پہچان نہیں  پاتا تھا کہ اللہ بخش ہے، جو مسلمان ہے، گاؤں  کی اکلوتی مسجد کا مؤذّن ہے، پیش اِمام ہے، گاؤں  کے مسلمان بچوں  کو عربی کی تعلیم دیتا ہے اور اُنھیں  دین کی باتیں  بتاتا، سکھاتا ہے۔
سویرے جاگنے کے بعد اللہ بخش کی اذان کی آواز اُسے بہت بھلی لگتی تھی۔ رات میں  جب تک اذان کی آواز اُس کے کانوں  میں  نہیں  پڑتی تھی تب تک اُسے میٹھی گہری نیند نہیں  آتی تھی۔
ایک دِن اُس نے اللہ بخش سے پوچھا تھا۔
" بھائی اللہ بخش ! تم اِس اذان میں  کیا پکارتے ہو ؟ "
" اِس اذان میں  اللہ کی تعریف اور اللہ کی عبادت کے لئے آنے کا بلاوا ہوتا ہے۔ "
اُس کا لڑکا شہر سے ٹیپ ریکارڈر لے آیا تھا۔
ایک دِن جب اللہ بخش کسی کام سے اُس کے گھر آیا تو وہ اُس سے بولا۔
" اللہ بخش ! تم اذان پکارو میں  تمہاری اذان کو ٹیپ کرنا چاہتا ہوں۔ "
" نہیں  رام بھائی ! اذان کسی بھی وقت نہیں  دی جاتی، اِس کے اوقات مقرر ہیں۔ اُن ہی اوقات میں  اذان دی جاتی ہے۔ "
لیکن جب وہ اللہ بخش سے بہت زیادہ اصرار کرنے لگا کہ وہ اُس کی اذان کو ٹیپ کرنا ہی چاہتا ہے تو اللہ بخش نے اذان دی اور اُس نے اُسے ٹیپ کر لی۔
" میں  نے آج تمہارے گھر میں  اذان دی ہے۔ دیکھنا اِس اذان کی قوت سے تمہارے گھر میں  جو بلائیں ، آسیب، شیطان، بھوت، پریت آتما ہوں  گی ؟ بھاگ جائیں  گی۔ "
اور کچھ دِنوں  بعد سچ مچ اُسے محسوس ہوا کہ اُس کے گھر میں  واقعی بہت نمایاں  تبدیلی ہوئی ہے۔ جن بلاؤں ، آسیب کا گھیرا اُس کے گھر میں  تھا، اللہ بخش کی اذان سے وہ دُور ہو گیا۔
گذشتہ پچاس سالوں  میں  کئی بار پورا ملک فسادات میں  جھلسا، لیکن اُن کی گرم ہوا کبھی بھی اُن کے چھوٹے سے گاؤں  کو نہیں  چھو سکی۔ لیکن وہ گذشتہ چار پانچ سالوں  سے بڑی شدّت سے محسوس کر رہا تھا کہ اُن کی آل اولاد کے خیالات میں  بڑی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ اُن کی نسل کے لوگ کبھی بھی اللہ بخش اور اُس کے مذہب کے لوگوں  کے بارے میں  باتیں  نہیں  کرتے تھے۔
لیکن یہ نئی نسل اب صرف اللہ بخش اور اُس کے مذہبی بھائیوں  کے بارے میں  ہی باتیں  کرتے ہیں  اور اُن کی باتوں  میں  نفرت کا زہر بھرا ہوتا ہے۔ گاؤں  کا ہر چھوٹا بڑا اللہ بخش کی عزت کرتا تھا لیکن یہ چھوٹے موقع ملنے پر بات بات پر اللہ بخش کی توہین کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اُس سے اور اُس کے خاندان سے اُلجھتے ہیں۔
کبھی کبھی اللہ بخش بڑے دُکھ سے کہتا تھا۔
" رام بھائی ! کچھ سمجھ میں  نہیں  آ رہا ہے۔ گذشتہ پچاس سالوں  میں  جو میرے یا میرے خاندان کے ساتھ اِس گاؤں  میں  نہیں  ہوا، وہ ہو رہا ہے۔ "
" چھوٹی چھوٹی باتوں  پر دِل کیوں  چھوٹا کرتے ہو اللہ بخش ! ہم ہیں  نا، یہ سب تو چلتا رہتا ہے۔ " وہ اُسے سمجھاتا۔
اور اُس دِن وہ سب کچھ ہو گیا۔
اچانک ہوا یا پہلے سے طے شدہ تھا۔ اِس بارے میں  وہ کچھ بھی نہیں  جانتا تھا۔
اور اللہ بخش کو گاؤں  چھوڑ کر جانا پڑا۔
اب گاؤں  میں  صرف اللہ بخش کی یادیں  اور اُس کی کھنڈر سی نشانیاں  ہیں۔ اُس کا ٹوٹا ہوا گھر، جلی ہوئی مسجد جس میں  ہنومان کی مورتیاں  رکھی ہیں۔ کھیتی جس پر پتہ نہیں  کتنے لوگوں  کا قبضہ ہے۔
جنھوں  نے یہ سب کیا تھا کیا شاید وہ بھول بھی گئے ہوں  گے ؟
لیکن وہ اُسے نہیں  بھول سکا۔
اُسے بار بار یہ محسوس ہوتا ہے اللہ بخش جیسے اُس کی رگ، رگ میں  بسا ہوا ہے۔ اُسے اللہ بخش کی ایک ایک بات یاد آتی ہے۔ اللہ بخش کے ساتھ گزارا ایک ایک لمحہ یاد آتا ہے۔ اُسے ہر جگہ اللہ بخش کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ پتا نہیں  اُن لوگوں  کو اللہ بخش کی کمی محسوس ہوتی بھی ہے یا نہیں ، جنھوں  نے اُسے گاؤں  چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ اُسے گاؤں  چھوڑنے پر مجبور کر کے پتا نہیں  اُن کے کس جذبۂ اَنا کو تسکین ملی ؟
وہ روزانہ جاگتا ہے تو اُس کے کان اللہ بخش کی اذان سننے کے لئے بیتاب رہتے ہیں۔ اُسے پتا تھا کہ اللہ بخش کی اذان کی آواز سنائی نہیں  دے گی۔کیونکہ اللہ بخش یا کوئی اور میاں  بخش اِس گاؤں  میں  نہیں  رہتا ہے۔ پھر بھی اُس کے کان اذان کی آواز سننا چاہتے تھے۔
اُسے اللہ بخش کی اذان سن کر ایک ذہنی سکون ملتا تھا۔
لیکن اب اُسے وہ آواز سنائی نہیں  دیتی ہے تو دِن بھر ایک بے چینی کا شکار رہتا ہے۔
جب اُس کی بے چینی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو وہ ٹیپ ریکارڈر کے پاس جاتا اور اُس میں  وہ کیسیٹ لگاتا جس میں  اُس نے ایک دِن اللہ بخش کی اذان ٹیپ کی تھی۔
اور جب وہ پورے والیوم میں  اللہ بخش کی اذان سنتا تو اُس کے دِل کو بڑا سکون ملتا تھا۔
حیّٰ علی الفلاح، حیّٰ علی الفلاح .......


Sunday, 18 June 2017

غزل

غزل

   ہاجرہ نور زریاب ,آکولہ مہاراشٹر 



یارب دیا ہے حسن تو یہ بھی کمال دے
میں ہنس پڑوں تو پھول بھی خوشبو اچھال دے


اندازہ میری پیاس کا جانے گا کوئی کیا
چاہوں تو اک پہاڑ بھی چشمہ نکال دے


ہستی تو نیستی میں بدل جائے گی مگر
ایمان مجھ کو میرے خدا لازوال دے


ماں کی دعائیں ساتھ میں رکھتی ہوں اس لیے 
جو بھی بلائیں آئیں اسے سر سے ٹال دے


شاید وہ میرے فن کو سمجھنے لگا ابھی
ورنہ وہ ایسا کب تھا کہ آنسو نکال دے


کیسا عجیب دوست ہے جب بھی ملوں اسے 
میرے ہی سامنے مجھے میری مثال دے


میں مانگتی ہوں تجھ سے دعا اے مرے خدا
جب بھی قلم اٹھاؤں انوکھا خیال دے


زریاب تو بشر ہے مگر بس کرم کی بات
رگ رگ میں تو ہی تھوڑا سا جاہ و جلال دے