Monday, 22 May 2017

افسانہ - روٹی



     روٹی     
 (عقیلہ رانی،دہلی)

عامر اور ناصر دونوں بھائی آنکھیں بند کیے اور ہاتھ پھیلا کر کچھ دعا مانگ رہے تھے۔ جیسے کی آنکھیں کھولی سامنے کچھ لوگ آتے نظر آئے، جنھیں دیکھ کر دونوں خوشی سے بھاگتے ہوئے اپنی ماں کے پاس گئے اور کان میں کچھ کہا۔ جسے سن کر ماں بولی۔۔۔ اچھا کہاں؟ 
بچوں نے قبرستان کی طرف انگلی اٹھائی اور کہاں وہاں۔ جا جلدی سے دیکھ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ کہاں سے آئے ہیں وہ لوگ؟ ادھر ضرور لے آنا جاؤں جلدی جاؤ، یہ سن کر عامر اورناصر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر بھاگتے ہوئے چلے گئے۔ قبر ابھی کھودی جا رہی تھی۔ لوگ مرنے والے کے عزیزوں کو دلاسہ دے رہے تھے۔ اتنی بھیڑ میں بھی عامر اور ناصر الگ ہی نظر آرہے تھ۔پتلے پتلے ہاتھ، گدلی پیلی آنکھیں ان کی غریبی کی گواہی دے رہی تھیں۔ حالانکہ سب کسی کو دفن کرنے آئے تھے مگر پھربھی نئے لباس پہنے ہوئے تھے۔ ان کے کپڑے دیکھ کر دونوں بچے اپنے پھٹے پرانے کپڑوں کو چھپانے کی نہ کام کوشش کرنے لگے۔
جب قبر تیار ہوگئی اور سب فاتحہ پڑھ کر چلنے لگے ۔ ناصر نے فوراً اس مردہ کے عزیز کو پہچانتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ چچا آپ کو ہماری امی بلا رہی ہیں۔
کون؟ کہاں؟ اس شخص نے بچوں سے سوال کیا۔
چلیے ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر وہ بچوں کے ساتھ چلنے لگا۔ قبرستان سے ٹھیک دس بارہ قدم چلنے کے بعد ایک ٹوٹی پھوٹی چھونپڑی نظر آئی۔ جہاں عامر اور ناصر اپنی ماں اور باپ کے ساتھ رہتے تھے۔ 
عامر نے کہا۔۔۔ ہاں! چچا یہی ہے ہمارا گھر رکیے امی کو بلاتے ہیں۔ امی امّی دیکھو وہ آگئے۔
چھونپڑی سے بلقیس پرانے دوپٹے سے سر کو چھپاتی ہوئی باہرآئی۔۔۔۔۔۔ آپ نے مجھے بلایا تھا؟ اس نے پوچھا!
ہاں۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا۔
کیا کہنا ہے؟
بلقیس غریب ضرور تھی مگر بہت غیرت مند تھی حالات نے اسے اس موڑ پر لاکھڑا کیا تھا جہاں سوائے ہاتھ پھیلانے کے دوسرا راستہ نہ دکھائی نہ دیا۔ شرم سے زمین میں گڑھی جا رہی تھی بڑی ہمت کر کے بولی۔۔۔۔۔۔ آپ مرنے والے کے کون ہیں؟
چھوٹا بھائی تھا میرا۔ اچانک انتقال کر گیا۔ یہ کہہ کر اس شخص کی آنکھوں میں آنسوؤں آگئے۔
آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟
آپ اپنے چھوٹے بھائی کے نام کا کھانا نکالیں گے نا؟
اب وہ شخص سب سمجھ گیا اور بولا۔۔۔ اچھا ۔۔۔ہاں ضرور نکالیں گے چالیسوے تک۔۔۔۔۔۔ اور آپ کو میں دے جایا کروں گا۔ میں نفیس کو جانتا ہوں بہت شریف ہے تمہارا شوہر۔ مگر لالا اس کے ساتھ ٹھیک سے پیش نہیں آتا۔ اس سے پہلے جس گھر سے آپ کے پاس کھانا آتا تھا میں نے ہی انھیں کہا تھا کہ اس گھر میں کھانا دیا کرتا۔ میرا نام ادریس ہے اور میرا گھر لالا کی دکان کے پاس ہی ہے۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔
اندر سے نفیس کی آواز آئی۔۔۔۔۔۔ بلقیس کون تھا کس سے بات کر رہی تھی تو؟
بلقیس نے اندر دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے کہا۔ قبرستان میں نیا مردہ آیا ہے۔
اچھا تو روٹی کی بات کرلی تم نے؟ ہاں کی تو ہے! مگر مجھے بہت شرم آتی ہے۔ تم جلد ہی لالا سے نوکری کے بارے میں بات کرو ۔ 
کوشش کر رہا ہوں۔ آج اس سے بات بھی کروں گا، اتنی سی تنخواہ میں نہیں ہوتا گزارا۔ تنخواہ بڑھے تو دو وقت کی روٹی عزت سے کھائیں۔
بلقیس کو نہ جانے کیوں نفیس کی باتوں سے کسی طرح کی کوئی خوشی نہ ہوئی اسے معلوم تھا کہ اس کے شوہر کی حالت اور صحت اب اس لائق نہیں رہی کہ اب تنخواہ میں اضافہ ہو۔ اتنی کم تنخواہ میں گھر چلانا ایک عذاب سا تھا۔ اس لیے قبرستان میں جب کوئی مردہ آتا تو بلقیس اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کا انتظام کرا ہی لیتی۔
شام کو جب نفیس گھر واپس آیا تو اس کے چہرے پر مایوسیوں کے بادل منڈلا رہے تھے۔ بلقیس دیکھ کر سمجھ گئی کہ لالا نے تنخواہ میں کسی طرح کا اضافہ نہ کیا۔ اس نے نفیس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائیگا۔ آج نہیں تو کل ضرور تنخواہ میں اضافہ ہوگا۔
یہ سنتے ہی نفیس کی آنکھیں جھک گئیں اور بولا۔۔۔۔۔۔ وہ دن کبھی نہیں آئیگا۔ اس نے مجھے نوکری سے نکال دیا ہے۔ اس صحت کو دیکھ کر دوسرا کوئی بھی مجھے نوکری نہیں دے گا۔ ویسے ہی ہمارے گھر میں اتنی پریشانی ہے دو وقت کی روٹی نصیب نہیں اور اب یہ سب۔
ماں باپ کو روتا دیکھ کر عامر اور ناصر بھی رونے لگے۔ اتنی سی عمر میں زندگی نے انھیں بہت کچھ سیکھادیاتھا۔ رات کو ادریس کچھ کھانا دے جاتا جسے سب کھا کر سوجاتے۔ مگر دوپہر کے کھانے کا کچھ پتا نہ رہتا۔ ہزار کوششوں کے باوجود نفیس کو کوئی کام نہ مل سکا۔ آہستہ آہستہ ان کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔
بچے بھوک کے مارے گھر کے کونے میں پڑے پڑے سارا دن گذار دیتے اب کھیلنے کی طاقت ان میں نہ تھی۔ شام ہوتے ہی ادریس کے آنے کی خوشی ان مردوں میں کچھ جان لے آتی۔ سورج چھپتے ہی بار بار دونوں کی نگاہیں دروازے تک جاتی مگر پھر ایک دن یہ بھی ختم ہو گیا۔ ادریس کھانا نہ لایا ، انتظار کرتے کرتے اندھیرا چھا گیا مگر وہ نہ آیا۔
عامر نے اپنے بھائی سے پوری طاقت لگا کر پوچھا۔۔۔ بھائی آج وہ آدمی کھانا کیوں نہیں لایا؟ آج رات کو ہمیں بھوکا سونا ہوگا کیا؟
ناصر نے اپنے خشک حلق کو تھوک سے تر کیا اور بولا۔۔۔ پتا نہیں، شاید کل آئے۔
مجھے معلوم ہے وہ کیوں نہیں آیا۔ بتاؤ! آج چالیس دن پورے ہوگئے ہیں۔ بلقیس دونوں کی باتیں بڑی خاموشی سے سن رہی تھی یہ سن کر اس کا دل لرز گیا اور بولی۔۔۔ ۔۔۔ نہیں بیٹا تمہارے ابا گئے ہیں کھانا آتا ہوگا۔
بچے نفیس کا انتظار کیے بغیر ہی پانی پی کر سو گئے انھیں معلوم تھا کہ ابا کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ روٹی لا سکے۔ صبح اٹھے تو بلقیس اور نفیس دونوں منھ لٹکائے چارپائی پر لیٹے تھے ناشتہ بنانے اور کرنے کی فکر کسی کو نہ تھی۔
نفیس روز صبح کام کی تلاش میں نکلتا اور شام کو مایوسی کے ساتھ لوٹ آتا، تین روز گذر چکے تھے اب معصوموں کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا، دوپہر کے وقت عامر کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جنھیں چھپانے کی اس نے لاکھ کوشش کی مگر ظالم پیٹ بہت بے درد ہوتا ہے اس نے کسی کا لحاظ نہ کیا اور لگا ادھم مچانے۔ بلقیس عامرکے رونے کی آواز سن کر دوڑی آئی اور آنسو پوچھتے ہوئے بولی!
آج ضرور کھانا لائیں گے ابّا۔۔۔ تم روؤں نہیں بلقیس نے عامر کے آنسوتو پوچھ دیے مگر خود پر قابو نہ رہا۔
ناصر بھی روتے ہوئے بولا۔۔۔ امّی مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔
بس بیٹا آج ضرور کھانا آئیگا۔ کچھ دیر اور رُک جاؤ آج تمہارے ابّا لالا سے اپنی بقایا تنخواہ لینے گئے ہیں۔ پھر کھانا ضرور ملے گا۔ 
عامر دروازے پر بیٹھ کر قبرستان کی طرف لگاتار دیکھے جارہا تھا جسے دیکھ کر لگا کہ پھر آج وہ کسی کے آنے ک دعا مانگ رہا ہے۔ صبح سے شام ہوئی اور شام سے رات مگر ابھی تک نہ نفیس آیا اور نہ ہی کھانا۔ ناصر دیوار پکڑ کر عامر کی چارپائی کے پاس سے گذر رہا تھا کہ اچانک چلایا۔ اسے دیکھو امی عامر کو کیا ہوا۔ بلقیس تیزی سے آئی تو دیکھا عامر کی آنکھیں اوپر چڑھی جارہی ہیں ہاتھ پیر برف کی طرح ٹھنڈے پڑے ہیں۔ عامر آنکھیں کھولو بیٹا۔۔۔ 
ابا کھانا لاتے ہوں گے بلقیس روتی جا رہی تھی اور کہتی جارہی تھی ایک بار اٹھ جا میرے بچے بس ایک بار آنکھ کھول۔۔۔ دیکھ کھانا آتا ہوگا۔
اتنے میں ادریس گھبراتا ہوا گھر میں داخل ہوا اور بولا۔۔۔۔۔۔ بلقیس بہن جلدی چلو۔ میرے ساتھ نفیس اور لالا میں تو تو میں میں ہو رہی تھی اور بات اتنی بڑھ گئی کہ نفیس کے ہاتھوں لالا کا قتل ہوگیا۔ جلدی چلو۔
یہ سنتے ہی بلقیس پر مانو پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
مگر عامر نے آنکھ کھول دی اور پوری طاقت لگا کر بولا۔۔۔ امی اب آجائیگی نا روٹی۔

Sunday, 21 May 2017

Uff Yeh Khabar

       اُف یہ خبر        

 (محمد علیم ناندروی) 

شائع شدہ ،ممبئی اردونیوز، ۱۴دسمبر ۲۰۱۶
کئی بار سمجھانے کے بعد آج میں نے پھر ایک بلّی کو اتنی زور سے پتھر مارا کہ وہ تڑپ تڑپ کر اسی جگہ مر گئی اور میں اس بات پر خوش ہوتا رہاکہ میرا نشانہ کتنا اچھا ہے۔ میں بہت ہی شرارتی تھا۔جانوروں کو ستانا میری عادت تھی ۔کبھی بلّی کو پتھر سے مارنا،کبھی کتّے کو ڈنڈے سے پیٹنا اور کبھی بکری کو لات سے مارنا۔میں مختلف طریقوں سے جانوروں کو پریشان کرتاتھا۔محلے کے زیادہ تر افراد مجھ سے سے پریشان تھے۔
ایک دن میں گوشت کے چند ٹکڑے اپنے ساتھ لے آیا، اور کتّے کو دکھا کر اسے اپنے پیچھے پیچھے لے جانے لگا اس طرح میں کتّے کو ایک گہرے کنویں کے قریب لے گیااور کنویں کی دیوار پر گوشت کے ٹکڑ ے رکھ دیا۔کتّا جیسے ہی گوشت کا ٹکڑا کھانے دیوار پر چڑا میں نے اسے دھکّا دے کر کنویں میں ڈ ھکیل دیا۔اور بہت تیزی سے بھاگا کہ کو ئی مجھے دیکھ نہ لے ، میرا پیر پھسلا، میں زمین پر گر ا، ایک بڑے پتھر سے میرا سر زور سے ٹکرا گیا،سر سے خون بہنے لگا،سر چکرا گیا ، تھوڑی دیر بعد میں پھر اٹھااور بھاگتاہواسیدھا گھر گیا۔میں گھر پہنچا اور دیکھا کہ میرے والدین کو محلے کے ایک شخص نے حادثے کی اطلاح دی،میں ان کے سامنے کھڑا تھا لیکن انھوں نے میری طرف دیکھا بھی نہیں اور میری آواز سنی بھی نہیں،وہ سیدھے گھر سے باہر بھاگنے لگے اور میں ان کے پیچھے۔وہ بھاگتے ہو ئے اسی جگہ گئے جہاں میں گرا تھا اور میرا سر ایک بڑے پتھر سے ٹکرا گیا تھا، وہاں لوگوں کا ہجوم لگ گیا تھا۔جب میں نے قریب جاکر دیکھا تو اس پتھر کے پاس میری لاش پڑی تھی ،میں مر چکا تھا۔ابّا دور کھڑے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤ ں کے دھارے بہہ رہی تھی اور ماں لاش سے لپٹ کر رو رہی تھی۔کنویں میں پانی بہت گہرا تھا اور موسم شدید سردیوں کا ہو نے کی وجہ سے نہایت سرد بھی۔ کتّے کی زور زور سے چلانے کی آواز سن کر لوگوں نے کنویں میں جھانکااور اسے باہر نکالا ۔باہر نکلنے کے بعد وہ کتّا میری لاش کے ارد گرد گھوم رہا تھا اور درد بھری آواز سے رو رہا تھا۔

Monday, 15 May 2017

افسانہ شوکت پہ زوال

افسانہ

شوکت پہ زوال

محمد علیم اسماعیل
آج فرحان خان بڑے تذبذب میں تھے ۔ وہ بڑے پریشان نظر آرہے تھے۔ کوئی فکر ان کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔گھر کے آنگن میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹہلتے جاتے تھے۔کچھ دیر رکتے پھر بیٹھ جاتے ۔کبھی پانی پیتے اور پھر سے ٹہلنے لگتے۔ جب انھیں کسی طرح بھی سکون نہ حاصل ہوا تو اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا اور نصیحت کرنے لگے’’تمہارا ووٹ اس بات کی شہادت ،گواہی اور سفارش ہے کہ وہ امیدوار اس کام کے قابل ہے اور اس منصب کا اہل ہے ۔

تمہارا ووٹ صرف تمہاری ذات تک محدود نہیں اس کا نفع اور نقصان معاشرے کے تمام افراد تک پہنچتا ہے۔ اس کا صحیح استعمال اجر و ثواب کا ذریعہ بنے گا اور غلط استعمال سے منتخب نا اہل ، نا قابل امیدوار سے ہو نے والی تمام برائیوں میں تم بھی برابر کے شریک سمجھے جاؤگے اور آخرت میں اس کے جواب دہ ہوگے۔اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر قوم وملت کی بھلائی کی خاطر سچی گواہی دیں گے ۔یاد رکھو اتحادزندگی اورانتشار موت ہے۔‘‘
دونوں لڑکے فیاض اور فیض اپنے ابو کی باتون کو بڑی غور سے سن رہے تھے۔بڑے لڑکے فیاض نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور سگریٹ کا پاکٹ باہر نکالا۔پھر اس پاکٹ میں سے ایک سگریٹ نکالا کر اپنے لبوں میں تھام لیا۔اس کے بعد سگریٹ کا خالی پاکٹ درمیان میں رکھ کر بولا’’جس طرح سگریٹ کے پاکٹ پر کینسر والی تصویر کے باوجود لوگ سگریٹ پینا نہیں چھوڑتے بالکل اسی طرح آ ج کل کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ کونسا امیدوار اچھا ہے اور کونسا برا۔ہر کو ئی اپنا فائدہ دیکھتا ہے ۔تو ہم کیوں نہ اپنا فائدہ دیکھیں۔‘‘
فیاض کی بات ابھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی کہ فیض بول پڑا’’ہمارے خاندان کے لیے جو شادی خانہ بن رہا تھا اس کا کام ابھی آدھا باقی ہے۔ میں نے ایک امیدوار سے بات کی ہے کہ اگر وہ یہ کام مکمل کرادیتا ہے تو ہمارے پورے خاندان کے ووٹ اس کو ہی ملیں گے۔‘‘اس امیدوار نے مجھ سے وعدہ بھی کیا ہے کہ کل سے کام شروع ہو جائے گا۔
اپنے دونوں لڑکوں کی باتیں سن کر فرحان خان غصے میں آگئے اور بول پڑے ’’تمہا رے سامنے سر پھوڑ نے کی بجائے اگر میں کسی پتھر پر اپناسر پٹک لیتاتووہ دیوتا بن جاتا۔ اور یہ بات بھی ذہین نشین کر لو کہ الیکشن کے بعد اس شادی کھانے کو غیر قانونی بتاکر اس پر بلڈوزر چلادیا جوئے گا۔‘‘ انھوں اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر بولیں’’یا اللہ میرے گھر کا یہ منظر ہے تو پورے ملک کا کیا حال ہوگا۔‘‘پھر ان کی زبان سے علامہ اقبال کا یہ شعرنکلا……
قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتاہے
فرحان خان غصے سے گھر میں جاکر بیٹھ گئے۔گھر میں بچے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ ایک شیر ،ہرن اور بکری تینوں نے ایک ساتھ ایک ہی ندی پر پانی پیا اور اپنی پیاس بجھائی۔اس کے بعد شیر کتے کی طرح دم ہلاتے ہوئے ہرن اور بکری کے پیروں میں بیٹھ گیا۔ٹی وی پر جب یہ نظارہ بچوں نے دیکھا تو اپنے دادا جی فرحان خان سے سوال کیا ’’ دادا جی یہ شیر ،ہرن اور بکری کو کیوں نہیں کھا رہا ہے۔‘‘ فرحان خان نے اپنا سر جھٹکتے ہوئے جواب دیا’’بیٹا ہمارے ملک کی طرح جنگل میں بھی الیکشن ہو نے والا ہے۔‘‘
فیاض گھر سے کسی کام سے نکلا تھا۔ راستے میں دوستوں نے پکڑ لیا اور بتایا’’ آج بہت بڑی الیکشن سبھا ہونے والی ہے۔ تمہارے گھر کے جتنے ووٹ ہیں ان سب کے الیکشن کارڈ بھی ساتھ لیں لو۔آج ووٹ کی تعداد کے حساب کے پیسے مل جائیں گے…… چلو چلتے ہیں۔‘‘ اور وہ الیکشن سبھا میں چل دیا۔سبھا میں امیدوار بھاشن دے رہاتھا۔’’میرے پیارے دیش واسیوں آج پی ایچ ڈی والے بھی چپراسی کی نوکری مانگ کر رہے ہیں۔امیر ،امیر ہو رہا ہے اور غریب ، غریب ہو تا جا رہا ہے۔مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ دیش کا نوجوان بے روزگار ہے۔میرے کسان بھائی آتم ہتیا کر رہے ہیں۔عورتوں کی عزت لوٹی جا رہی ہے۔کرپشن …… رشوت لینا دینا یہ عام بات ہو گئی ہے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر آپ نے ہمیں الیکشن جتا دیا تو ہم دوسرے ملکوں میں جمع کالادھن کا ایک ایک روپیہ واپس اپنے دیش لاکر آپ کے بینک کھاتوں میں جمع کرادیں گے۔بچوں کو مفت اور اچھی شکشا دیں گے۔بس ضرورت ہے کہ ایک بار آپ ہمیں اپنی سیوا کا موقع دیں۔‘‘ یہ جذباتی تقریر سن کرلوگ بہت متاثر ہوئے ا ور عوام کو خوشی کی ایک نئی کرن نظر آنے لگی۔ تقریر پر تالیوں کے شور نے عوام کے اعتماد میں اور اضافہ کردیا۔ فیاض بھی تقریر سے بہت متاثر ہوا۔اس نے اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے اس امیدوار کے حق میں خوب نعرے لگائیں۔
سبھا ختم ہونے کے بعد فیاض حجام کی دوکان پر اپنے بال بنا رہا تھا۔حجام نے فیاض سے کہا’’کیا کہتے ہو فیاض میاں، کس کی جیت ہوگی۔‘‘
’’جیت تو اسی کی ہوگی بھائی جولوگوں کے بینک کھاتوں میں لاکھوں روپئے جمع کرائے گا، اور پیسوں کے لیے سب ان کو جتا دیں گے تم دیکھ لینا‘‘
’’کیا لگتا ہے تمھیں ،کیا سچ مچ لوگوں کے کھاتوں میں پیسے جمع ہوگے؟۔‘‘
’’اب بھرسہ تو کرنا ہی ہوگا بھائی اس کے سوا کوئی چارا نہیں ،سالا مہنگائی نے ناک میں دم کر دیا ہے۔‘‘
’’ہاں! صحیح کہتے ہو فیاض ،کوئی بھی کام بنا رشوت اب نہیں ہوتااور اوپر سے مہنگائی کا قہر ‘‘
فیاض کو ووٹ کی تعداد کے حساب سے پیسے بھی مل گئے۔اس نے اسی امیدوار کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔
ایک دن فیاض اور فیض کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر جا رہیں تھے۔راستہ میں ان کی چند دوستوں سے ملاقات ہوئی۔دوستوں نے کہا’’ آج بہت بڑی الیکشن سبھا ہو نے والی ہے ،چلو چلتے ہیں۔‘‘
دونوں نے کہا ’’ نہیں یار آج کام ہے ۔ چندضروری چیزیں خریدنے جا رہے ہیں۔‘‘
’’بھائی آج تو چلنا ہی پڑے گا اور زیادہ وقت بھی نہیں لگے گا اس کے بعد اپنا کام کر لینا۔‘‘
فیض نے کہا’’پہلے ضروری سامان خرید کر گھر دے آتے ہیں اس کے بعد چلیں جائے گے۔‘‘
فیاض نے کہا’’ نہیں پہلے سبھا میں چلتے ہیں اس کے بعد گھر کا کام کریں گے۔‘‘
اور دونوں جلسے میں چلیں گئے۔وہاں ایک امیدوار بھاشن دے رہے تھے۔ملک کی ترقی کی باتیں کرتے کرتے وہ بھڑکاؤں بھاشن دینے لگے ۔ ماحول خراب ہوتا دیکھ امیدوار کے پی اے نے ان کے کان میں کہا ’’صاحب ماحول بہت خراب ہو رہاہے۔ تھوڑی سی چنگاری آگ لگا سکتی ہے۔اگر فساد ہو گیا تو بے گناہ نوجوان مارے جا سکتے ہیں،بچے یتیم ہو سکتے ہیں،لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں،اور بھی بہت نقصانات ہو سکتے ہیں۔‘‘
امید وار نے کہا ’’ کیا تمہارے بچے بھی اس سبھا میں شامل ہے‘‘
’’نہیں صاحب میرے بچے تو امریکہ میں پڑھ رہے ہیں۔‘‘
’’تو پھر خاموش بیٹھے رہے اور تماشہ دیکھیں‘‘
اس کے بعد امیدوار نے ایسا بھڑکاؤں بیان دیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے جلسے کا ماحول خراب ہو گیا……بھگدڈ مچ گئی …… لاٹھیاں چلنے لگی ……جو لوگ ایک دوسرے کے ہر کام میں شانہ بشانہ تھے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ……پورا علاقہ نذرآتش کردیاگیا…… انسانیت حیوانیت میں تبدیل ہو گئی…… میدان میں ہر طرف خون میں لت پت لاشیں پڑی تھی ……جب سب کچھ ختم ہو گیاتب پولس آئی اور گرفتاریاں ہونے لگی ……شک کی بنیاد پر بے گناہوں کوستایا جانے لگا……فیاض کو گرفتار کرلیا گیا……اسے دہشت گرد قرار دے کر جیل میں ڈال دیا گیا……شر پسند عناصر کے دباؤ میں پولس تو ایک طرف عدلیہ بھی بے اثر ہو چکی تھی…… تلاشی مہم جاری تھی……
لا شوں کے انبار میں خون میں لت پت فیض کی لاش پڑی تھی ……اس کے ہاتھ کی مٹھی بند تھی…… بند مٹھی کھولی گئی……اس میں ایک کاغذ کا ٹکڑانکلا…… جس میں لکھا تھا…… اباکی دوائی……منے کا کھلونا…… گڑیاں کا بستہ……ماں کی چپل……کھانے کا تیل اور سبزی لانا ہے۔
—–

افسانہ - اُف یہ دوستی

افسانہ - اُف یہ دوستی

محمد علیم ناندوروی

شائع شدہ ممبئی اردو نیوز , جہانِ اردو



رات دو بجے کاشف کے دروازے پر کسی نے دستک دی ، جب کاشف نہیں اٹھا تو دروازہ زور زور سے ٹھوکا گیا۔کاشف کی آنکھ کھلی تو اسے دروازے پر کاظم کی بیوی کی آواز سنائی دی ، وہ کہہ رہی تھی’’کاشف بھیا جلدی اٹھئے ، جلدی چلئے ، آپ کے دوست کاظم کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔ لیکن دل میں پیدا ہو چکی جلن و حسد نے کاشف کو اٹھنے نہیں دیا اور دروازہ کھولنے نہیں دیا۔ وہ خاموش اپنے نرم بستر پر پڑا رہا۔ کاظم کی بیوی بہت دیر تک دروازہ کھٹ کھٹا تی رہی اور گڑ گڑاتی رہی لیکن دروازہ نہیں کھلا نہ ہی کاشف مدد کے لیے آیا۔ جاگنے کے بعد بھی وہ سونے کا ناٹک کرتا رہا۔

صبح کا شف نیندد سے جاگا تو دیکھا ، کاظم کے گھر میں بہت سے لوگ جارہے ہیں اور بہت سے لوگ باہر آرہے ہیں۔ وہ گھبرا گیا اس کے دل کی دھڑ کنیں تیزز ہو گئیں۔ وہ آگے بڑھا ا ور کاظم کے گھر کا گیٹ کھول کر اندر داخل ہوا۔ آنگن میں اسے موٹر سائیکل دکھائی دی۔اس نے دو دفعہ مڑکر موٹر سائیکل کی طرف دیکھااس کے بعد گھر میں داخل ہوا تو ہال میں ایک کونے میں چند عورتیں تلاوت کر رہی تھی ، دوسرے کونے میں کاظم کی بیوی کھڑی رورہی تھی اور پلنگ پر کوئی سفید کپڑا اوڑھے ہو ئے سویا تھا۔ اس نے آگے بڑ ھ کر منہ سے سفید کپڑا ہٹا یا اور دیکھا تو وہ کاظم تھا۔کاظم کے سرہانے بیٹھے مولوی صاحب نے د وبارہ کپڑے سے منہ ڈھانک دیااور کہا کہ ’’رات کو دل کا دورہ پڑا تھا اللہ جنت نصیب کریں۔‘‘اب وہ ایک زندہ لاش کی طرح کھڑا سوچ رہا تھاکہ ’’یہ وہی تو میرا دوست ہے جو ہر وقت سائے کی طرح میرے ساتھ رہتا تھا ، جس کے ساتھ میں نے اپنا بچپن گزارا تھا ، جو مجھے ایک چھوٹے بھائی کی طرح پیار کرتا تھا ، جو مرے لیے اپنی ہر خوشی قربان کر دیتا تھااور آج ضرورت کے وقت میں میں نے اس کی مدد نہیں کی۔ میرا جلن و حسد اس کی موت کی وجہ بن گئی اور آج یہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے جدا ہو گیا۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوئے اور وہ زور سے چیخا ’’نہیں…………۔ ‘‘
وہ اتنی زور سے چیخا کہ اس کی آواز سے وہ خود نیند سے جاگ گیا۔اس نے دیکھا کہ وہ نیند میں رو رہا تھا اور اس کا تکیہ نم ہو گیا تھا۔
کاظم اور کاشف دونوں بچپن کے دوست تھے۔دونوں ایک ساتھ کھیلے کودے ، پڑھائی کی ، جوان ہوئے ، شادی ہوئی۔ان کی دوستی بہت گہری تھی۔ دونوں کے گھر آس پاس تھے۔دونوں اپنا ہر کام ایک دوسرے کی رائے مشورہ سے کرتے تھے۔اگر کوئی چیز دونوں کو پسند آجائے تو دونوں ایک دوسرے کو دینے کی کو شش کرتے اور اکثر کاظم بڑا ہونے کے ناتے اپنی پسندیدہ چیز کی قربانی دے دیتا تھا۔
ایک دن کاظم نے کاشف سے کہا تھا ’’ ایک شخص کو روپیوں کی اشد ضرورت ہے اور وہ اپنی چار مہینے پرانی موٹر سائیکل آدھی قیمت پر فروخت کر رہا ہے ، چل موٹر سائیکل دیکھ آتے ہیں۔‘‘موٹر سائیکل دونوں نے دیکھی اور دونوں کو بہت پسند آئی۔کاشف نے کاظم سے کہا ’’یار ایسا کرتے ہیں یہ میں خرید لیتا ہوں۔‘‘کاظم نے کہا ’’نہیں یار مجھے موٹر سائیکل کی ضرورت ہے ، تو یہ میں ہی لے لیتا ہوں۔‘‘ بس اتنی سی بات تھی اور کاشف کاظم سے ناراض ہو گیاتھا اوراس کے دل و دماغ میں کاظم کے لیئے جلن و حسد پیدا ہو گئی تھی۔
صبح چائے دیتے ہوئے کاشف کی بیوی نے اس سے کہا کہ ’’ رات میں کاظم بھائی گھر آئے تھے ، انھوں نے بطور گفٹ(تحفہ ) آپ کے لیے موٹر سائیکل خریدی ہے ، آپ جلد سو گئے تھے تو یہ گاڑی کی چابی دے کر چلے گئے اور معلوم ہوا ہے کہ رات دو بجے ان کی طبعیت بہت خراب ہوئی تھی۔شاید انھوں نے ہم کو بھی نیند سے جگانے کی کوشش کی ہو۔آپ جلدی سے ان کے پاس جائیے۔‘‘ کاشف بہت بے چین ہو گیا ، وہ جلدی سے کاظم کے گھر گیا ، کاظم کی صحت و طبیعت کی خیریت پاکر اسے اطمینان حاصل ہوا۔اس نے گاڑی کی چابی کاظم کو دینا چاہی لیکن کاظم نے چابی نہیں لی۔ کاظم نے کہا ’’قسم خدا کی تو بڑانالائق انسان ہے تجھے تو گولی ماردینی چاہیے ، تجھے گفٹ کرنے کے لیے ہی میں نے یہ گاڑی خریدی تھی اور یہ بتا کل رات کیا تو گھوڑے بیچ کر سورہا تھا اگر میں مر جاتا تو۔‘‘ کاشف نے کاظم کے منہ پر ہاتھ رکھ دیااور اس کے سینے سے لپٹ گیا ۔
– – – – –