Saturday, 26 August 2017

افسانہ قاتلوں کے درمیان ایم-مبینبھیونڈی - انڈیا

افسانہ

ایم-مبین

بھیونڈی - انڈیا

قاتلوں کے درمیان


ہوش میں آنے کے باوجود اُسے احساس نہیں ہوسکا کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں ؟ 
آنکھوں کے سامنے تاریکی چھائی ہوئی تھی اور سارا جسم درد سے بھرا پھوڑا محسوس ہو رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سارا جسم پٹیوں سے جکڑا ہے۔ آنکھوں پر بھی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ وہ آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آنکھیں کھولنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔ اکثر ایسا محسوس بھی ہوتا کہ آنکھیں کھل گئیں تو بھی آنکھوں کے سامنے تاریکی چھائی رہتی۔ 
یہ تاریکی نہ تو زندگی کی دلیل تھی اور نہ ہی موت کی علامت ........ ! اگر وہ زندہ تھا تو پھر یہ چاروں طرف تاریکی کیوں چھائی ہے ؟ اور اگر مر چکا ہے تو اُس کے جسم میں احساس کیوں زندہ ہے ؟ اُسے کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ اُس کا سارا جسم دہکتا ہوا انگارا بنا ہوا ہے۔ اور سارا جسم پٹیوں سے ڈھکا ہے۔ 
اُسے علم تھا کہ وہ مر چکا ہے۔ 
اِتنا مار کھانے کے بعد اُس کا زندہ رہنا نا ممکن تھا۔ 
چار پانچ سو لوگوں کے مجمع نے اُسے جانوروں کی طرح مارا تھا۔ اُس پر لاتوں ، گھونسوں سے وار تو کئے تھے ساتھ ہی ساتھ اپنے ہتھیار بھی آزمائے تھے۔ 
ترشولوں سے اُس کے جسم کو کئی جگہ چھیدا گیا تھا۔ خنجر اُس کے جسم میں اُتارے گئے تھے۔ لاٹھی، ہاکی سے اُس کے سر پر وار کئے گئے تھے۔ اُس کے زمین پر گرنے کے بعد مجمع اُسے اپنے پیروں سے کچل رہا تھا۔ اِس کے بعد اُس کا زندہ رہنا تو نا ممکن ہی تھا۔
لیکن پھر بھی !اِس کے جسم میں احساس جاگا تھا، اُس کا ذہن کام کرنے لگا تھا۔ وہ مرگیا ہوتا۔ وہ سوچ رہا تھا اور اِس وقت وہ قبر میں ہے، یہ قبر کی تاریکی ہے اور اُس کا جسم جو دُکھ رہا ہے یہ منکر نکیر کے گرجو کی مار کی وجہ سے دُکھ رہا ہے، وہ مسلمان ہے اپنے آپ کو وہ نیک مسلمان مانتا ہی نہیں ہے۔ ہفتہ میں ایک بار صرف جمعہ کو نماز پڑھتا تھا، رمضان میں کچھ روزے رکھ لیتا تھا اور کبھی کبھی قرآن کریم کی تلاوت کر لیتا تھا۔ ہاں اُس کے دل میں ایمان ضرور تھا کہ وہ مسلمان ہے لیکن صرف اِس بنیاد پر اُسے قبر کے عذاب سے نجات مل جائے گی، اِس بات کا یقین تو اُسے بھی نہیں تھا۔ اس لئے ہوش میں آنے کے بعد وہ خود کو قبر میں محسوس کرنے لگا۔ لیکن اِس کے پاس سے جو آوازیں بلند ہو رہی تھیں اُسے اِس بات کا احساس دلا رہی تھی کہ وہ قبر میں نہیں ہے۔ چاروں طرف سے لوگوں کی کراہوں ، چیخوں کا شور اُبھر رہا تھا۔ " ڈاکٹر صاحب میں مرا، میرا سارا جسم دُکھ رہا ہے، یہ درد مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ہے، ڈاکٹر صاحب آپ نے مجھے کیوں بچا لیا ہے، مجھے بھی مرنے دیتے، اب میرا دُنیا میں کوئی بھی نہیں بچا، میں جی کر کیا کروں گا، کس کے لئے جیوں گا ؟ 
" ڈاکٹر صاحب ! بیڈ نمبر ۳۴ کے مریض کی حالت بہت خراب ہے ......... ! ڈاکٹر صاحب ! یہ کیا ہو رہا ہے، لوگ زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا ہیں ، ایک ایک سانس کے لئے لڑ رہے ہیں اور آپ اُن پر توجہ دینے کی بجائے نرسوں سے خوش گپیّوں میں لگے ہوئے ہیں ؟ " یہ آوازیں قبر سے نہیں اُٹھ سکتی تھیں۔ حلق میں کانٹے سے پڑے ہوئے تھے اور ہونٹوں پر پپڑیاں جمی تھیں۔ بڑی مشکل سے اُس نے اپنی گیلی زبان سے ہونٹوں کو، تھوڑا سا تھوک نگل کر اپنے حلق کو تر کرنے کی کوشش کی۔ 
" مَیں ............... کہاں .................... ہوں ؟ بڑی مشکل سے اُس کے ہونٹوں سے تین لفظ نکل پائے۔ 
" تم اسپتال میں ہو اور پورے چار دِنوں کے بعد تمہیں ہوش آیا ہے۔ " اُس کے قریب سے ایک نسوانی آواز اُبھری۔ اِس ایک آواز کے ساتھ ہی طوفانی رفتار سے اُس کے ذہن نے سب کچھ سوچ کر سارے حالات کا اندازہ لگا لیا۔ تو وہ زندہ بچ گیا ہے۔ معجزہ .......... ! اِتنا ہونے کے بعد تو وہ زندہ بچ ہی نہیں سکتا تھا۔ پھر بھی زندہ بچ گیا ہے، یہ معجزہ ہے۔ اور اِس وقت اسپتال میں ہے شاید صحیح وقت پر وہ اسپتال میں پہونچ گیا اِس لئے زندہ ہے۔ 
" مگر مَیں یہاں کیسے آیا ؟ " 
" تُم اِن ہزاروں لوگوں میں سے ایک جو شہر کے مختلف اسپتالوں میں اِسی حالت میں آئے تھے اور زندہ بچ گئے۔ تمہارا سارا جسم زخموں سے بھرا ہے چہرے پر بھی گہرے زخم ہیں اِس لئے ہم نے تمہارا سارا جسم پٹیوں سے ڈھانک دیا ہے اور چہرہ بھی پٹیوں سے باندھ دیا ہے، تمہاری آنکھیں سلامت ہیں یا نہیں یہ تو پٹیاں کھلنے کے بعد ہی معلوم ہو گا۔ " 
" مجھے کچھ دِکھائی نہیں دے رہا ہے، گہری تاریکی ہے۔ کبھی کبھی ہلکی سی سُرخی لہرا جاتی ہے یا پھر ایک دودھیا روشنی۔ " 
" مبارک ہو، اِس کا مطلب ہے تمہاری آنکھیں سلامت ہیں۔ تمہارے زخم بھی بڑی تیزی سے بھر رہے ہیں۔ بھگوان نے چاہا تو تم بہت جلد اچھے ہو جاؤ گے۔ "
نرس کی بات سن کر اُس کے اندر پھر سے جینے کی ایک نئی آرزو جاگ اُٹھی، وہ مرا نہیں ، وہ زندہ ہے۔ شاید اُس کی آنکھیں بھی سلامت ہیں ، جسم کے زخم بھی اچھے ہو رہے ہیں۔ وہ بہت جلد اچھا ہو جائے گا، چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے گا اور اپنے گھر جاسکے گا۔ 
" گھر " اِس بارے میں سوچ کر وہ اور اُداس ہو گیا۔ 
گھر اب کہاں بچا ہے۔ وہ تو اِس کی آنکھوں کے سامنے جل کر راکھ ہو گیا تھا۔ گھر کا کوئی بھی فرد بھی تو نہیں بچا تھا۔ اُس نے اپنی آنکھوں سے اپنے ہی گھر کی چتا میں اپنی بیوی بچوں کو جلتے دیکھا تھا۔ اُس نے آگ میں لپٹی اپنی بیوی کی آخری چیخ اپنے کانوں سے سنی تھی۔ جلتی آگ سے نکل کر وہ آگ سے باہر آنے کی کوشش کر رہی تھی اور جلتے گھر کے گرد بھیڑ نے جو گھیرا بنا رکھا تھا اُن کے ہاتھوں کی لکڑیاں ، ترشول، بھالے بیوی کو دوبارہ آگ میں دھکیل رہے تھے۔ 
ماحول میں انسانی جسموں کے جلنے کی سر پھاڑ دینے والی بدبو تھی۔ اِس بدبو میں شاید اُس کے بچوں کے جسم کی بدبو بھی شامل تھی۔ وہ اُس سے زیادہ نہیں دیکھ سکا تھا کیونکہ کسی کی نظر اُس پر پڑی تھی۔ 
" ارے ......... ! یہ یہاں کس طرح پہونچ گیا، یہ کیسے زندہ بچ گیا ؟ مارو ........... اِسے مارو۔ اُسے دیکھ کر کوئی چیخا تھا اور اُس کے بعد پورا مجمع اُس پر ٹوٹ پڑا تھا۔ 
اُسے اپنے گھر والوں اور گھر کے بچنے کی آس تو قطعی نہیں تھی۔ جو منظر اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اُس کے بعد تو اُسے یقین ہو رہا تھا کہ پورا محلہ نہیں بچا ہو گا۔ پورے محلے میں نہ تو کوئی گھر باقی بچا ہو گا اور نہ کسی گھر کا کوئی مکیں۔ وہ زندہ تو بچ گیا یہ معجزہ تھا ............... کیوں نہ وہ گھر سے باہر چلا گیا تھا .............. اگر وہ گھر میں ہوتا تو زندہ جل کر راکھ بن جاتا۔ ویسے اُسی دن بیوی اُسے باہر جانے سے روک رہی تھی۔ 
" گھر سے باہر مت جاؤ۔ ۵۸ لوگوں کو زندہ جلانے کے احتجاج میں شہر بند ہے، بند کے دوران کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ " 
" بند، بند کی طرح ختم ہو جائے گا۔ دوکانیں وغیرہ بند رہیں گی، لوگ اِدھر اُدھر بیٹھ کر باتیں کریں گے اور دن گزر جائے گا۔ لیکن ہماری روزی کا کیا ہو گا۔ اگر میں کام پر نہیں گیا تو کل ہمارے گھر چولہا نہیں جلے گا۔ پھر بھی تم فکر مت کرو، اگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ خطرہ ہے تو میں واپس گھر آ جاؤں گا۔ " اور وہ کام کی تلاش میں گھر سے نکل پڑا تھا۔ 
ایک دو گھنٹے کے بعد جب اُسے کوئی کام نہیں ملا تو اُسے محسوس ہوا، اُس نے گھر سے نکل کر غلطی کی ہے۔ پورا شہر بند تھا اور ہزاروں لوگ سڑکوں پر تھے۔ایسے میں کوئی کام ملنے سے تو رہا۔ اِس کے بعد اُسے شہر کے آسمان پر کالے کالے دھوئیں کو دیکھ کر اُس کا دل دھڑک اُٹھا۔ ابھی صورتِ حال کا اُس نے اندازہ نہیں لگایا تھا۔ جو مناظر اُس نے دیکھے تھے اُن سے وہ ڈر گیا تھا۔ 
سینکڑوں کا مجمع ٹولیاں بنا بنا کر سڑکوں پر گشت کر رہا تھا۔ وہ ہتھیاروں سے لیس تھے جس دوکان کو چاہتے توڑ کر اُسے نذرِ آتش کر دیتے۔ جس کسی آدمی کو چاہتے اُس پر ٹوٹ پڑتے اور ایک لمحہ میں اُسے مار کر جلتی ہوئی آگ میں جھونک دیتے۔ 
گھر جل رہے تھے۔دوکانیں لوٹی اور جلائی جا رہی تھیں۔ لاشیں گر رہی تھیں لوگ جانیں بچا کر 
بھاگ رہے تھے۔ قاتل ان کلا تعاقب کر رہے تھے۔ اور بھاگتے لوگوں کو گھیر کر قتل کر رہے تھے۔ جو مزاحمت کرتے اس کی مزاحمت کا جواب دیتے اور پھر اس کی لاش کے چیتھڑے اڑا دیتے۔ 
ایسا لگتا جیسے جنگل راج آگیا تھا۔ ہر فرد وحشی درندہ بن گیا تھا اور ایسی حرکتیں کر رہا تھا جو وحشی درندے بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ ایسے ایسے مناظر سامنے دکھائی دے رہے تھے جو آج تک نہ فلموں ،یا ٹی وی پر دیکھے تھے اور نہ ہی کتابوں میں پڑھے تھے۔ 
" یا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں یہ حال ہے۔تو میرے محلے کا کیا حال ہو گا؟ میرے بیوی، بچے کس حال میں ہوں گے ؟ تو ہم پر رحم کر، انھیں محفوظ رکھ۔"
سوچتا ہوا۔ وہ قاتلوں ، وحشیوں کے درمیان سے خود کو بچاتا اپنے محلے کی طرف بھاگا۔ 
بھیڑ وحشیانہ نعرے لگا رہی تھی۔ 
"مارو۔کاٹو۔کوئی بھی زندہ نہ بچنے پائے۔"
.خون کا بدلہ خون۔ ان کا نام و نشان زمین سے مٹا ڈالو۔،
اپنی طاقت بتا دو۔ ایک ایک کے بدلے ہزار ہزار کی جان لو۔،
ان وحشیوں سے بچتا وہ کسی طرح اپنے محلے میں آیا تو وہ بھی اس کی آنکھوں کے سامنے وہی منظر تھے جو راستہ بھر وہ دیکھتا ہوا آیا تھا۔ 
پورے محلے میں وہی وحشیوں کا ننگا ناچ چل رہا تھا۔
مجمع میں شامل وہ ایک ایک فرد کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
اس مجمع کے ایک ایک فرد کو وہ اچھی طرح پہچانتا تھا۔
سیاسی ورکر تھے،سیاسی لیڈر،مذہبی رہنما،کٹّر مذہب پرست،عام آدمی سبھی تواس مجمع میں شامل تھے۔اور وہ وحشت بربریت کا ننگا ناچ ناچ رہے تھے۔مظلوم مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ لیکن کوئی بھی ان کی مدد کو آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ چپ چاپ کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔بربریت کا ایسا تماشہ جسکاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن بڑے اطمینان سے وہ اس بربریت دیکھ رہے تھے۔ایسا لگتا تھا کہ یہ کوئی جانور وحشی درندہ بن گیا ہے۔کسی میں بھی ذرا سی بھی انسانیت باقی نہیں تھی۔
اگر ذرا سی بھی انسانیت باقی ہوتی تو وہ اسکے خلاف احتجاج کرتا،وحشیوں کو ایسا کرنے سے روکتا یا کم سے کم ان مناظر کو دیکھ کر اپنی آنکھیں پھیر لیتا۔
اس سے آگے نہ تو وہ کچھ سوچ سکا اور نہ ہی کچھ دیکھ سکا۔
کسی کی نظر اس پر پڑی اور وہ اس کا نام لیکر چیخی۔ اور پھر ان وحشیوں کا پورا مجمع اس پر ٹوٹ پڑا۔اس کے بعد نہ تو کسی کے زندہ رہنے کی توقع کی جاسکتی ہے نہ آس لگائی جاسکتی ہے۔ 
" نرس ! نوٹیا کا کیا حال ہے۔ " اُس نے نرس سے پوچھا۔ 
" تم اُس محلے میں رہتے تھے ؟ ہے بھگوان ...... ! وہاں تو بہت برا حال ہے، وہاں پر ۱۱۰ لوگوں کو زندہ جلا یا گیا ہے اور پورا محلہ جلا کر خاک کر دیا گیا ہے۔ " 
نرس کی باتیں سن کر اُس کی پٹیوں میں چھپی آنکھیں بند ہو گئیں۔ 
نرس کی اِس بات سے اُس کی آخری اُمید بھی ٹوٹ گئی تھی۔ اِس کے بعد اُسے اپنے محلے اور گھر والوں کے بارے میں سوچنے کے لئے کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ 
دس دنوں بعد وہ بستر پر اُٹھ کر بیٹھنے کے قابل ہو گیا۔ 
آنکھوں کی پٹیاں کھل گئی تھیں وہ اچھی طرح سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ اُس کا پورا چہرہ زخموں سے بھرا تھا، سارا جسم زخموں سے چور تھا لیکن زخم بھرنے لگے تھے۔ صرف جو گہرے زخم تھے اُن میں رُک رُک کر ہلکی ہلکی ٹیس اُٹھتی رہتی تھی۔ 
اِس دوران ہزاروں کہانیاں اُس نے سنی تھیں۔ وہ کہانیاں اُس بربریت سے بھی زیادہ ہولناک تھیں جو اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ 
اسپتال میں اُس کی طرح سینکڑوں افراد تھے۔ ادھ مرے، زندگی کی چاہ میں زندگی سے جنگ کرتے، دل میں جینے کی آرزو لئے، یہ درد کو سہنے کی کوشش کرتے لوگ۔ ہر کسی کی کہانی اُس سے ملتی جلتی تھی۔ ہر کسی نے یا تو اپنا پورا خاندان کھویا تھا یا پھر گھر بار۔ 
پولس آ کر اُس کا بیان لے گئی تھی۔ سیاسی لیڈر آ کر اُسے تسلیاں دے گئے تھے۔ لیڈر ہر کسی کو تسلیاں دیتے تھے۔ پولس بار بار آ کر اُن کے بیان لیتی تھی۔ وہاں پر کئی پولس والے ڈیوٹی پر متعیّّن تھے۔ وہ جیسے اُن پر نگرانی رکھ رہے تھے۔ 
ایک دن اچھی طرح چیک اپ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے اُس سے کہا۔ 
" اب تم چاہو تو اپنے گھر جاسکتے ہو۔ جو زخم باقی ہیں وہ جلد ہی بھر جائیں گے۔ آٹھ دن میں ایک بار آ کر اِن زخموں کی مرہم پٹی کرا لیا کرنا۔ " 
ڈاکٹر نے تو کہہ دیا کہ وہ گھر جاسکتا ہے لیکن گھر بچا ہی نہیں ہے تو وہ کون سے گھر جائے۔ اِس سے اچھا ہے کہ وہ یہیں اسپتال میں لا وارثوں کی طرح پڑا رہے۔ 
لیکن وہ زیادہ دنوں تک وہاں نہیں رہ سکا۔ 
ایک دن پولس آ کر اُسے اسپتال سے اُٹھا لے گئی اور اُسے حوالات میں ڈال دیا۔ 
حوالات کے اِس کمرے میں وہ پچاس لوگوں کے درمیان تھا۔ اِن پچاس لوگوں میں کچھ کی حالت اُس کی سی تھی، کچھ لوگ اچھی حالت میں تھے۔ 
" انسپکٹر صاحب ! مجھے یہاں کیوں لایا گیا، مجھے حوالات میں کیوں ڈالا گیا ہے ؟ " وہ چیخا۔ 
" دنگا کرنے کے الزام میں تجھے حوالات میں ڈالا گیا ہے۔ تیرے محلے کے پڑوس کے محلے کی شانتی بین چال پر تم لوگوں نے حملہ کیا تھا اور چال کو آگ لگا دی تھی اور دس لوگوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ "
" انسپکٹر صاحب ! بھلا مَیں کسی پر حملہ کس طرح کر سکتا ہوں۔ کس طرح کسی کو زندہ جلا سکتا ہوں ؟ خود میرا گھر بار جلا دیا گیا، میرے بیوی بچوں کو میری آنکھوں کے سامنے زندہ جلا دیا گیا مجھے مار مار کر ادھ مرا کر دیا گیا ہے۔ پھر میں یہ بھیانک جرم کیسے کر سکتا ہوں ؟ " وہ چیخا۔ 
" اے کاہے کو چیخ رہا ہے ؟ اپنا گلہ پھاڑ پھاڑ کر تُو رات دن بھی چیختا رہے تو بھی تیرے چیخنے کا اُن پر کوئی اثر نہیں ہو گا، ایک بار اُنھوں نے جو الزام لگا دیا، وہ پتھر کی لکیر ہے۔ اب فساد، لوٹ مار، قتل و غارت گری کے جرم میں سات آٹھ سال اندر رہ کر عدالت میں خود کو بے گناہ ثابت کر تبھی یہاں سے نکل پائے گا۔ " 
تب اُس کو پتہ چلا کہ اِس کمرے میں جتنے لوگ ہیں اُن میں سے زیادہ تر لوگ بے گناہ ہیں ، اُنھیں شہر کے مختلف علاقوں سے پکڑ کر لا کر اِس حوالات میں ٹھونس دیا گیا ہے اور اُن پروہ الزام لگا دئے گئے ہیں۔ 
اِس کے بعد تو اُس کے دل میں حوالات سے نکلنے کی کوئی اُمید باقی نہیں رہی۔ ایک دن کوئی سیاسی لیڈر پولس اسٹیشن آیا۔ حوالات میں آ کر وہ اُن سے ملا۔ اُس نے اُن کی ساری باتیں سنیں اور باہر جا کر پولس پر گرجنے لگا۔ 
" یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ یہ لٹے، تباہ حال لوگ جو اُس وحشیانہ فساد میں اپنا سب کچھ لٹا چکے ہیں اُن کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک جن فسادیوں نے کیا وہ تو آزاد ہیں پولس نے اُن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ اُن مظلوم لوگوں کو فسادی بنا دیا گیا ہے۔ میں کل ہی اِس کے بارے میں پارلمینٹ میں آواز اُٹھاؤں گا اور وزیر داخلہ سے اِس بارے میں جواب طلب کروں گا۔ " 
اُس کی بات سن کر پولس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ 
" اگر ایسا ہوا تو جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔ ہم اُن لوگوں پر کیس تو بنا چکے ہیں۔ اُنھیں اِس وقت چھوڑ دیا جائے جب معاملہ ٹھنڈا ہو جائے پھر اُٹھا لیں گیا اور ہمارے سروں سے یہ مصیبت بھی ٹل جائے گی۔ 
اور اُنھیں راتوں رات چھوڑ دیا گیا۔ 
اب وہ شہر میں تنہا تھا۔ بے یار و مدد گار ............. بے امان۔ 
نہ تو اُس کا کوئی ساتھی نہ رشتہ دار تھا،نہ اُس کے سر پر کوئی چھت تھی۔ 
اپنے جلے گھر کی راکھ کو صاف کر کے اُس نے ایک کونے میں اتنی جگہ بنا لی تھی جہاں وہ ریلیف میں ملا کمبل بچھا کر سو سکتا تھا۔ آنکھ کھلتی تو اُسے اپنے چاروں طرف وہی شناسا چہرے دکھائی دیتے جنھوں نے اُس کے گھر اور اُس کے بیوی بچوں کو جلایا تھا۔ 
وہ اُسے دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکراتے تھے۔ وحشیانہ ہنسی ہنستے تھے جن کو سن کر اُس کا دل دہل جاتا تھا۔ بڑے آرام سے وہ اپنے کام دھندوں میں لگے ہوئے تھے۔ اپنی دوکانوں پر بیٹھے قہقہے مار کر باتیں کرتے تھے۔ اپنی پارٹی کے جلسوں اور مذہبی جلسوں میں جوش و خروش سے کرتن بھاشن کرتے تھے۔ وہ ایک ایک چہرے کو اچھی طرح جانتا تھا۔ 
اُس نے جلتی ہوئی بیوی کے سینے میں ترشول مار کر اُسے دوبارہ آگ میں دھکیلا تھا۔ اُس نے اُس کے جسم پر کئی جگہ ترشول گاڑھے تھے، اُس نے اُس کے سر پر ہاکی ماری تھی، اُس نے اُس کے جسم پر خنجر مارا تھا، اُس نے اُس جگہ آگ لگائی تھی، اُس نے وہ دوکان لوٹی تھی۔ 
لیکن وہ سب آزاد تھے۔ 
پولس اُسے بار بار پولس اسٹیشن طلب کرتی اور پتہ نہیں کن کن کاغذات پر اُس کے دستخط لیتی۔ دن بھر اُس کا پولس اسٹیشن یا کورٹ میں گزرتا۔ 
اور قاتل، وحشی اپنے اپنے گھروں ، محلوں ، دوکانوں میں رہتے۔ وہ خود کو قاتلوں کے درمیان گھرا ہوا پاتا۔ اُس کے چاروں طرف قاتل بکھرے ہوئے تھے جو آزاد تھے۔ 
ایک بار وہ اُن سے بچ گیا لیکن اگر اُنھیں دوبارہ اِس طرح کا موقع ملے تو کیا وہ بچ پائے گا ؟

Wednesday, 23 August 2017

افسانہ - ماہی گیر - سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو

ماہی گیر

(فرانسیسی شاعر وکٹر ہیوگو کی ایک نظم کے تاثرات)

سمندر رو رہا تھا۔

مقید لہریں پتھریلے ساحل کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر آہ و زاری کر رہی تھیں۔ دور۔۔۔۔۔۔پانی کی رقصاں سطح پر چند کشتیاں اپنے دھندلے اور کمزور بادبانوں کے سہارے بے پناہ سردی سے ٹھٹھری ہوئی کانپ رہی تھیں۔ آسمان کی نیلی قبا میں چاند کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔ ستاروں کا کھیت اپنے پورے جوبن میں لہلہا رہا تھا۔۔۔۔۔۔فضا سمندر کے نمکین پانی کی تیز بو میں بسی ہوئی تھی۔

ساحل سے کچھ فاصلے پر چند شکستہ جھونپڑیاں خاموش زبان میں ایک دوسرے سے اپنی خستہ حالی کا تذکرہ کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔یہ ماہی گیروں کے سر چھپانے کی جگہ تھی۔

ایک جھونپڑی کا دروازہ کھلا تھا جس میں چاند کی آوارہ شعاعیں زمین پر رینگ رینگ کر اسکی کاجل ایسی فضا کو نیم روشن کر رہی تھیں۔ اس اندھی روشنی میں دیوار پر ماہی گیر کا جال نظر آ رہا تھا اور ایک چوبی تختے پر چند تھالیاں جھلملا رہی تھیں۔

جھونپڑی کے کونے میں ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی، تاریک چادروں میں ملبوس اندھیرے میں سر نکالے ہوئے تھی۔ اس کے پہلو میں پھٹے ہوئے ٹاٹ پر پانچ بچے محوِ خواب تھے۔۔۔۔۔۔۔ننھی روحوں کا ایک گھونسلا جو خوابوں سے تھر تھرا رہا تھا۔ پاس ہی انکی ماں نہ معلوم کن خیالات میں مستغرق گھٹنوں کے بل بیٹھی گنگنا رہی تھی۔

یکایک وہ لہروں کا شور سن کر چونکی۔۔۔۔بوڑھا سمندر کسی آنیوالے خطرے سے آگاہ، سیاہ چٹانوں، تند ہواؤں اور نصف شب کی تاریکی کو مخاطب کر کے گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہا تھا۔ وہ اٹھی اور بچوں کے پاس جا کر ہر ایک کی پیشانی پر اپنے سرد لبوں سے بوسہ دیا اور وہیں ٹاٹ کے ایک کونے میں بیٹھ کر دعا مانگنے لگی۔ لہروں کے شور میں یہ الفاظ بخوبی سنائی دے رہے تھے۔

"اے خدا۔۔۔۔۔اے بیکسوں اور غریبوں کے خدا، ان بچوں کا واحد سہارا، رات کا کفن اوڑھے سمندر کی لہروں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔موت کے عمیق گڑھے پر پاؤں لٹکائے ہے۔۔۔۔۔۔صرف انکی خاطر وہ ہر روز اس دیو کے ساتھ کُشتی لڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اے خدا تو اسکی جان حفاظت میں رکھیو۔۔۔۔۔۔۔آہ، اگر یہ صرف نوجوان ہوتے، اگر یہ صرف اپنے والد کی مدد کر سکتے۔"

یہ کہکر خدا معلوم اسے کیا خیال آیا کہ وہ سر سے پیر تک کانپ گئی۔ اور ٹھنڈی آہ بھر کر تھرتھراتی ہوئی آواز میں کہنے لگی۔ "بڑے ہو کر انکا بھی یہی شغل ہو گا، پھر مجھے چھ جانوں کا خدشہ لاحق رہے گا۔۔۔۔۔۔۔آہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ غربت، غربت۔"

یہ کہتے ہوئے وہ اپنی غربت اور تنگ دامانی کے خیالات میں غرق ہو گئی۔ دفعتاً وہ اس اندھیرے خواب سے بیدار ہوئی اور اسکے دماغ میں ہوٹلوں کی دیو قامت عمارتیں اور امراء کے راحت کدوں کی تصویریں کھچ گئیں۔ ان عمارتوں کی دلفریب راحتوں اور امراء کی تعیش پرستیوں کا خیال آتے ہی اسکے دل پر ایک دھند سی چھا گئی۔ کلیجے پر کسی غیر مرئی ہاتھ کی گرفت محسوس کر کے وہ جلدی سے اٹھی اور دروازے سے تاریکی میں آوارہ نظروں سے دیکھنا شروع کیا۔

اسکی یہ حرکت خیالات کی آمد کو نہ روک سکی۔ وہ سخت حیران تھی کہ لوگ امیر اور غریب کیوں ہوتے ہیں جبکہ ہر انسان ایک ہی طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سوال کے حل کے لیے اس نے اپنے دماغ پر بہت زور دیا مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہ مل سکا۔ ایک اور چیز جو اسے پریشان کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ جب اسکا خاوند اپنی جان پر کھیل کر سمندر کی گود سے مچھلیاں چھین کر لاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ مارکیٹ کا مالک بغیر محنت کئے ہر روز سینکڑوں روپے پیدا کر لیتا ہے۔ اسے یہ بات خاص طور پر عجیب سی معلوم ہوئی کہ محنت تو کریں ماہی گیر اور نفع ہو مارکیٹ کے مالک کو۔ رات بھر اسکا خاوند اپنا خون پسینہ ایک کر دے اور صبح کے وقت آدھی کمائی اسکی بڑی توند میں چلی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان تمام سوالوں کا کچھ جواب نہ پا کر وہ ہنس پڑی اور بلند آواز میں کہنے لگی۔

"مجھ کم عقل کو بھلا کیا معلوم۔ یہ سب کچھ خدا جانتا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔"

اسکے بعد وہ کچھ کہنے والی تھی کہ کانپ اٹھی۔ "اے خدا میں گنہگار ہوں، تو جو کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔۔۔۔۔ایسا خیال کرنا کفر ہے۔"

یہ کہتی ہوئی وہ خاموشی سے اپنے بچوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی اور انکے معصوم چہروں کی طرف دیکھکر بے اختیار رونا شروع کر دیا۔

باہر آسمان پر کالے بادل مہیب ڈائنوں کی صورت میں اپنے سیاہ بال پریشان کئے چکر کاٹ رہے تھے۔ کبھی کبھی اگر کوئی بادل کا ٹکڑا چاند کے درخشاں رخسار پر اپنی سیاہی مل دیتا تو فضا پر قبر کی تاریکی چھا جاتی۔ سمندر کی سیمیں لہریں گہرے رنگ کی چادر اوڑھ لیتیں اور کشتیوں کے مستولوں پر ٹمٹماتی ہوئی روشنیاں اس اچانک تبدیلی کو دیکھ کر آنکھیں جھپکنا شروع کر دیتیں۔

ماہی گیر کی بیوی نے اپنے میلے آنچل سے آنسو خشک کئے اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کر دیکھنے لگی کہ آیا دن طلوع ہوا ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس کا خاوند طلوع کی پہلی کرن کے ساتھ ہی گھر واپس آ جایا کرتا تھا مگر صبح کا ایک سانس بھی بیدار نہ ہوا تھا۔ سمندر کی تاریک سطح پر روشنی کی ایک دھاری بھی نظر نہ آ رہی تھی۔ بارش کاجل کی طرح تمام فضا پر برس رہی تھی۔

وہ بہت دیر تک دروازے کے پاس کھڑی اپنے خاوند کے خیال میں مستغرق رہی۔ جو اس بارش میں سمندر کی تند موجوں کے مقابلے میں لکڑی کے ایک معمولی تختے اور کمزور بادبان سے مسلح تھا۔ وہ ابھی اسکی عافیت کے لیے دعا مانگ رہی تھی کہ یکایک اس کی نگاہیں اندھیرے میں ایک شکستہ جھونپڑی کی طرف اٹھیں، جو تاروں سے محروم آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے لرز رہی تھی۔

اس جھونپڑی میں روشنی کا نام تک نہ تھا۔ کمزور دروازہ کسی نا معلوم خوف کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔ تنکوں کی چھت ہوا کے دباؤ تلے دوہری ہو رہی تھی۔

"آہ، خدا معلوم بیچاری بیوہ کا کیا حال ہے۔۔۔۔۔۔اسے کئی روز سے بخار آ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔" ماہی گیر کی بیوی زیرِ لب بڑبڑائی اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ شاید کسی روز وہ بھی اپنے خاوند سے محروم ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔کانپ اٹھی۔

وہ شکستہ جھونپڑی ایک بیوہ کی تھی جو اپنے دو کم سن بچوں سمیت روٹی کے قحط میں موت کی گھڑیاں کاٹ رہی تھی۔ مصیبت کی چچلتی ہوئی دھوپ میں اس پر کوئی سایہ کرنے والا نہ تھا۔ رہا سہا سہارا دو ننھے بچے تھے جو ابھی مشکل سے چل پھر سکتے تھے۔

ماہی گیر کی بیوی کے دل میں ہمدردی کا جذبہ امڈا۔ بارش کے بچاؤ کے لیے سر پر ٹاٹ کا ایک ٹکڑا رکھ کر اور ایک اندھی لالٹین روشن کرنے کے بعد وہ جھونپڑی کے پاس پہنچی اور دھڑکتے ہوئے دل سے دروازے پر دستک دی۔۔۔۔۔۔لہروں کا شور اور تیز ہواؤں کی چیخ پکار اس دستک کا جواب تھے، وہ کانپی اور خیال کیا کہ شاید اسکی اچھی ہمسائی گہری نیند سو رہی ہے۔

اس نے ایک بار پھر آواز دی، دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب پھر خاموشی تھا۔۔۔۔۔۔کوئی صدا، کوئی جواب اس جھونپڑی کے بوسیدہ لبوں سے نمودار نہ ہوا۔ یکایک دروازہ، جیسے اس بے جان چیز نے رحم کی لہر محسوس کی، متحرک ہوا اور کھل گیا۔

ماہی گیر کی بیوی جھونپڑی کے اندر داخل ہوئی اور اس خاموش قبر کو اپنی اندھی لالٹین سے روشن کر دیا، جس میں لہروں کے شور کے سوا مکمل سکوت طاری تھا۔ پتلی چھت سے بارش کے قطرے بڑے بڑے آنسوؤں کی صورت میں سیاہ زمین کو تر کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا میں ایک مہیب خوف سانس لے رہا تھا۔

ماہی گیر کی بیوی اس خوفناک سماں کو دیکھ کر جو جھونپڑی میں سمٹا ہوا تھا سر تا پا ارتعاش بن کر رہ گئی۔ آنکھوں میں گرم گرم آنسو چھلکے اور بے اختیار اچھل کر بارش کے ٹپکے ہوئے قطروں کے ساتھ ہم آغوش ہو گئے۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور دردناک آواز میں کہنے لگی۔

"آہ۔۔۔۔۔تو ان بوسوں کا جو جسم کو راحت بخشتے ہیں، ماں کی محبت، گیت، تبسم، ہنسی اور ناچ کا ایک ہی انجام ہے۔۔۔۔۔۔۔یعنی قبر۔۔۔۔۔۔۔آہ میرے خدا۔"

اسکے سامنے پھوس کے بستر پر بیوہ کی سرد لاش اکڑی ہوئی تھی اور اسکے پہلو میں دو بچے محو خواب تھے۔ لاش کے سینے میں ایک آہ کچھ کہنے کو رکی ہوئی تھی۔ اسکی پتھرائی ہوئی آنکھیں جھونپڑی کی خستہ چھت کو چیر کر تاریک آسمان کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہی تھیں، جیسے انہیں کچھ پیغام دینا ہے۔

ماہی گیر کی بیوی اس وحشت خیز منظر کو دیکھ کر چلا اٹھی۔ تھوڑی دیر دیوانہ وار ادھر ادھر گھومی۔ یکایک اسکی نمناک آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہوئی، اور اس نے لپک کر لاش کے پہلو سے کچھ چیز اٹھا کر اپنی چادر میں لپیٹ لی اور اس دار الخطر سے لڑکھڑاتی ہوئی اپنی جھونپڑی میں چلی آئی۔

چہرے کے بدلے ہوئے رنگ اور لرزاں ہاتھوں سے اس نے اپنی جھولی کو میلے بستر پر خالی کر دیا اور اس پر پھٹی ہوئی چادر ڈال دی۔ تھوڑی دیر بیوہ سے چھینی ہوئی چیز کی طرف دیکھ کر وہ اپنے بچوں کے پاس زمین پر بیٹھ گئی۔

مطلع سمندر کے افق پر سپید ہو رہا تھا۔ سورج کی دھندلی شعاعیں تاریکی کا تعاقب کر رہی تھیں۔ ماہی گیر کی بیوی بیٹھی اپنے احساسِ جرم کے شکستہ تار چھیڑ رہی تھی۔ ان غیر مربوط الفاظ کے ساتھ کن سُری لہریں اپنی مغموم تانیں چھیڑ رہی تھیں۔

"آہ میں نے بہت برا کیا۔ اب اگر وہ مجھے مارے تو مجھے کوئی شکایت نہ ہو گی۔۔۔۔۔یہ بھی عجیب ہے کہ میں اس سے خائف ہوں جس سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔کیا واپس چھوڑ آؤں۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔شاید وہ مجھے معاف کر دے۔"

وہ اسی قسم کے خیالات میں غلطاں و پیچاں بیٹھی ہوئی تھی کہ ہوا کے زور سے دروازہ ہلا۔ یہ دیکھ کر اس کا کلیجہ دھک سے رہ گیا، وہ اٹھی اور کسی کو نہ پا کر وہیں متفکر بیٹھ گئی۔

"ابھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔بیچارہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے ان بچوں کے لیے کتنی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اکیلے آدمی کو سات پیٹ پالنے پڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ شور کیا ہے؟"

یہ آواز چیختی ہوئی ہوا کی تھی جو جھونپڑی کے ساتھ رگڑ کر گزر رہی تھی۔

"اسکے قدموں کی چاپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ نہیں ہوا ہے۔" یہ کہہ کر وہ پھر اپنے اندرونی غم میں ڈوب گئی۔ اب اسکے کانوں میں ہواؤں اور لہروں کا شور مفقود ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سینے میں خیالات کے تصادم کا کیا کم شور تھا۔

آبی جانور ساحل کے آس پاس چلا رہے تھے۔ پانی میں گھسے ہوئے سنگریزے ایک دوسرے سے ٹکرا کر کھنکھنا رہے تھے۔ کشتی کے چپوؤں کی آواز صبح کی خاموش فضا کو مرتعش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ماہی گیر کی بیوی کشتی کی آمد سے بے خبر اپنے خیالات میں کھوئی ہوئی تھی۔

دفعتاً دروازہ ایک شور کے ساتھ کھلا۔۔۔۔۔۔صبح کی دھندلی شعاعیں جھونپڑی میں تیرتی ہوئی داخل ہوئیں، ساتھ ہی ماہی گیر کاندھوں پر ایک بڑا سا جال ڈالے دہلیز پر نمودار ہوا۔

اسکے کپڑے رات کی بارش اور سمندر کے نمکین پانی سے شرابور ہو رہے تھے۔ آنکھیں شب بیداری کی وجہ سے اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔ جسم سردی اور غیر معمولی مشقت سے اکڑا ہوا تھا۔

"نسیم کے ابا، تم ہو۔" ماہی گیر کی بیوی چونک اٹھی اور عاشقانہ بیتابی سے اپنے خاوند کو چھاتی سے لگا لیا۔

"ہاں میں ہوں پیاری"

یہ کہتے ہوئے ماہی گیر کے کشادہ مگر مغموم چہرے پر مسرت کی ایک دھندلی روشنی چھا گئی۔ وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔بیوی کی محبت نے اسکے دل سے رات کی کلفت کا خیال محو کر دیا۔

"موسم کیسا تھا؟" بیوی نے محبت بھرے لہجے میں دریافت کیا۔

"تُند"

"مچھلیاں ہاتھ آئیں؟"

"بہت کم۔۔۔۔۔آج رات تو سمندر قزاقوں کے گروہ کی مانند تھا۔"

یہ سن کر اسکی بیوی کے چہرے پر مردنی چھا گئی۔ ماہی گیر نے اسے مغموم دیکھا اور مسکرا کر بولا۔

"تو میرے پہلو میں ہے۔۔۔۔۔۔میرا دل خوش ہے۔"

"ہوا تو بہت تیز ہو گی؟"

"بہت تیز، معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا کہ تمام شیطان مل کر اپنے منحوس پر پھڑ پھڑا رہے ہیں۔ جال ٹوٹ گیا۔ رسیاں کٹ گئیں اور کشتی کا منہ بھی ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔" پھر اس گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے بولا۔ "مگر تم شب بھر کیا کرتی رہی ہو پیاری؟"

بیوی کسی چیز کا خیال کر کے کانپی اور لرزاں آواز میں جواب دیا۔ "میں۔۔۔۔۔۔آہ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔سیتی پروتی رہی، تمھاری راہ تکتی رہی۔۔۔۔۔۔۔لہریں بجلی کی طرح کڑک رہی تھیں، مجھے سخت ڈر لگ رہا تھا۔"

"ڈر۔۔۔۔۔۔ہم لوگوں کو ڈر کس بات کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"اور ہاں، ہماری ہمسایہ بیوہ مر گئی ہے۔" بیوی نے اپنے خاوند کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔

ماہی گیر نے یہ دردناک خبر سنی مگر اسے کچھ تعجب نہ ہوا۔ شاید اس لیے کہ وہ ہر گھڑی اس عورت کی موت کی خبر سننے کا متوقع تھا۔ اس نے آہ بھری اور صرف اتنا کہا۔ "بیچاری سدھار گئی ہے۔"

"ہاں اور دو بچے چھوڑ گئی ہے جو لاش کے پہلو میں لیٹے ہوئے ہیں۔"

یہ سن کر ماہی گیر کا جسم زور سے کانپا اور اسکی صورت سنجیدہ و متفکر ہو گئی۔ ایک کونے میں اپنی اونی ٹوپی، جو پانی سے بھیگ رہی تھی، پھینک کر سر کھجلایا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اپنے آپ سے بولا۔

"پانچ بچے تھے، اب سات ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔۔اس سے پیشتر ہی اس تُند موسم میں ہمیں دو وقت کا کھانا نصیب نہیں ہوتا تھا۔ اب مگر خیر۔۔۔۔یہ میرا قصور نہیں۔ اس قسم کے حوادث بہت گہرے معانی رکھتے ہیں۔"

وہ کچھ عرصے تک اسی طرح اپنا سر گھٹنوں میں دبائے سوچتا رہا۔ اسے یہ سمجھ نہ آتا تھا کہ خدا نے ان بچوں سے جو اسکی مٹھی کے برابر بھی نہیں ہیں، ماں کیوں چھین لی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان بچوں سے جو نہ کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی چیز کی خواہش ہی کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔اسکا دماغ ان سوالوں کا کوئی حل نہ پیش کر سکا۔ وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھا۔

"شاید ایسی چیزوں کو ایک پڑھا لکھا ہی سمجھ سکتا ہے۔" اور پھر اپنی بیوی سے مخاطب ہو کر بولا۔ "پیاری جاؤ انہیں یہاں لے آؤ۔ وہ کس قدر وحشت زدہ ہونگے اگر وہ صبح اپنی ماں کی لاش کے پاس بیدار ہوئے۔۔۔۔۔۔۔انکی ماں کی روح سخت بے قرار ہو گی، جاؤ انھیں ابھی لیکر آؤ۔"

یہ کہہ کر وہ سوچنے لگا کہ وہ ان بچوں کو اپنی اولاد کی طرح پالے گا۔ وہ بڑے ہو کر اسکے گھٹنوں پر چڑھنا سیکھ جائینگے۔ خدا ان اجنبیوں کو جھونپڑی میں دیکھ کر بہت خوش ہو گا اور انھیں زیادہ کھانے کو عطا کرے گا۔

"تمھیں فکر نہیں کرنی چاہیئے پیاری۔۔۔۔۔۔۔میں زیادہ محنت سے کام کروں گا۔" اور پھر اپنی بیوی کو چارپائی کی طرف روانہ ہوتے دیکھ کر بلند آواز میں کہنے لگا۔ "مگر تم سوچ کیا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔اس دھیمی چال سے نہیں چلنا چاہئے تمھیں۔"

ماہی گیر کی بیوی نے چارپائی کے پاس پہنچ کر چادر کو الٹ دیا۔

"وہ تو یہ ہیں۔"

دو بچے صبح کی طرح مسکرا رہے تھے۔

یکم فروری 1935ء

.........

Monday, 14 August 2017

افسانچہ - جواب - داکٹر اسلم جمشید پوری

داکٹر اسلم جمشید پوری


جواب


’’آئیے !آئیے! نوشاد صاحب۔‘‘
کال بیل کی آواز پر رافع صاحب نے دروازہ کھولا اور سامنے کھڑے نوشاد صاحب
کو اندر بلایا۔
’’تشریف رکھیں بتائیں کیا لیں گے۔‘‘
’’لے لیں گے ابھی کیا جلدی ہے؟‘‘ نوشاد صاحب نے صوفے پربیٹھتے ہوئے کہا۔
’’بتا دیں، ٹھنڈا یا گرم آنے میں دیر تو لگے گی ہی۔‘‘ رافع صاحب نے اصرار کیا۔
’’کچھ بھی جو آپ کو پسند ہو‘‘
رافع صاحب نے نوکر کوبلاکر کافی لانے کو کہا اور نوشاد صاحب کی طرف
گھومتے ہوئے بولے۔
’’اب بتائیے کیسے زحمت کی؟‘‘
’’ارے بھائی کیا بتاؤں بس بیٹی کے رشتے کے لیے پریشان گھوم رہا ہوں۔‘‘
تھوڑا رک کر پھر بولے۔’’ سنا ہے آپ کے تین بیٹے شادی لائق ہیں اگر ہم
لوگ آپس میں مل لیں تو کیسا رہے۔ برسوں پرانی دوستی نئی ہوجائے گی‘‘
’’اچھا یہ بات ہے کوئی بات نہیں تم نے ٹھیک سنا میرا بڑا
لڑکا سول انجینئر ہے۔ اس کی اور ہماری کوئی مانگ وانگ توہے نہیں۔ ہاں اگر
آپ کار دیں تو اس کا رنگ ہماری پسند کا ہوتوزیادہ بہتر ہے۔ دوسرا بیٹا
ارے کاشف وہ تو ماشااﷲ بہت ذہین ہے۔ ابھی کچھ ماہ قبل ہی اس نے ایم بی اے
کرکے ایکملٹی نیشنل میں جوائن کیا ہے۔ اس کو 10لاکھ کا پیکیج مل رہا ہے۔
اس کے پاس ہونڈا سٹی ہے۔ وہ روزانہ نوئیڈا آتا جاتا ہے۔اس کا ارادہ ہے کہ
وہ نوئیڈا میں ہی کوئی فلیٹ لے لے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں آج کل فلیٹ بہت
مہنگے ہیں۔‘‘
اسی دوران ملازم کافی اورڈرائی فروٹ لے آیا تھا۔ رافع صاحب نے پلیٹ نوشاد
صاحب کے سامنے کی، کافی کے لیے کہا اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولے۔
’’تیسرا بیٹا اس کاکیا کہنا وہ تو ٹیچر ہے۔ بی ٹی سی ٹریننگ پوری
کرنے کے بعد اس نے اسکول جوائن کرلیا ہے۔ چھٹا تنخواہ کمیشن لاگو ہونے پر
ا سے ڈی ڈکشن کے کے بعدپندرہ سولہ ہزار تو مل ہی جائیں گے۔اسے تو شاعری
کابھی شوق ہے۔ بہت شریف ہے۔ کہتا ہے مجھے تو کسی بڑے شریف خاندان میں ہی
شادی کرنی ہے خاندانی لوگ رسم وروایات کا پورا خیال رکھتے ہیں۔‘‘
نوشاد صاحب کے ایک ہاتھ میں کافی کا مگ اور دوسرے میں بادام کا ایک دانہ
 دونوں ہاتھ اپنی اپنی جگہ رک گئے۔ وہ ہکّا بکّا رافع صاحب کو دیکھ
رہے تھے جو ایک لمبی جماہی لے کر اپنی ادھوری بات کو پورا کرنے لگے۔
’’اب آپ بتائیں ،میں کسے اندر سے بلاؤں؟
’’جی اپنی بیٹی کو مجھے ایک بہو کی بھی تلاش ہے۔‘‘
***

Sunday, 16 July 2017

افســــــــــانہ   ★   مــــــردہ خـــــانہ  ★

افضل انصاری مالیگاؤں



    

  ★ مردہ خانہ ★

پیڑوں کے پتے شبنم کے بار سے جھکے جا رہے تھے، 
دھند میں آسمان چھپ چکا تھا- ٹھنڈ اس قدر کی تھی کے سوئٹر اور دوسرے کئی گرم کپڑے بدن سے لپیٹنے کے بعد بھی آگ کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی-
،میں لکڑیوں کے لئے مردہ خانے کے عقبی حصے کی طرف بڑھا ہی تھا، کہ گیٹ کے کھلنے کی آواز نے مجھے روک لیا اور میں گیٹ کی سمت بڑھ گیا..
دو کانسٹبل گیٹ کے اندر داخل ہوئے ان کے ساتھ دو عورتیں اور ایک مرد تھا جو شاید لاش کی شناخت کے لئے آئے تھے - سارے مسلسل کانپے جا رہے تھے ..
مطلوبہ لاش کی شناخت ہو چکی تھی، ان کے ہی کسی سگے کی تھی، کیونکہ سائیں سائیں کر تا ہوا مردہ خانہ چیخ و پکار سے گونج اٹھا تھا-
میں نے اپنے بارے میں تو کچھ بتایا ہی نہیں..
بیوی کے مرنے کے بعد میں اسی مردہ خانے کی ایک جانب بنی ہوئی چھوٹی سی جھوپڑی میں رہنے لگا، یہ مردہ خانہ ہی میری کل کائنات تھا، ماں کے مرنے کے بعد بابا کی عمر اسی مردہ خانے میں گزری تھی، میں اور میری بیوی دوسرے گاؤں میں رہا کرتے تھے، بابا دو دنوں تک اسی جھوپڑی میں مرے پڑے رہے،جب ایک لاش لائی گئی تو علم ہوا کہ بابا اس دنیا میں نہیں رہے- بابا کی موت کی خبر مجھے ملنے تک وہ کئی روز اسی مردہ گھر کے ایک سرد کمپارٹمنٹ میں رہے -
سرکاری قانون کے مطابق بابا کے برسر ملازمت مر جانے سے ان کی نوکری اور اسی کے ساتھ ان کی جھونپڑی بھی مجھے مل گئی -
پہلے پہل تو بڑے عجیب سے دن تھے، کوئی کام نہیں، خالی مردہ گھر لیے میں ہفتوں اور کبھی کبھی تو مہینوں بیٹھا رہ جاتا، کبھی کبھار کوئی لاش آتی اور مجھے تھوڑی سی مصروفیت مل جاتی، پھر اس لاش کو یا تو اس کے گھر والے لے جاتے یا کسی لاوارث لاش کا سرکاری طور پر کریا کرم ہو جاتا-
پھر نجانے کیا ہوا !!!!
لاشیں آنے کے وقفوں میں کمی آنے لگی، اب کی بار آنے والی لاشیں کٹی پھٹی ہوتیں، کچھ تو پوری جلی ہوئی بھی ہوتی تھیں، مجھے کسی نے بتایا کہ دنگے شروع ہوگئے ہیں، پھر کچھ لاشیں آئیں یہ زیادہ تر ایک جیسے چہرے والوں کی تھیں، ان کے سینے اور چہرے گولیوں سے چھلنی تھے-
آپ جانتے ہیں اس مردہ گھر کے کچھ مناظر بڑے عجیب ہوتے ہیں، ایک لاش کی شناخت کرنے کے لیے آئے ہوئے بوڑھے ماں باپ لاش دیکھ کر بے حد خوش ہوگئے، آپ حیران ہوں گے کہ لاش کو دیکھ کر خوشی؟؟
"نہیں نہیں! یہ ہمارا بچہ نہیں ہے، اوپر والے تیرا شکر ہے" بوڑھی عورت کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے -
ہے نا عجیب جگہ؟؟؟
یہاں آنے والی لاشیں جہاں کچھ لوگوں کو دکھ دیتی تھیں وہیں بہت سوں کو اس سے خوشی بھی ملتی تھی جب مرنے والا ان کا اپنا نہیں ہوتا تھا-
دسویں سال میں مردہ گھر کی توسیع کا کام شروع ہوا، لاشوں کو رکھنے کے لئے نئے اور وسیع تر انتظامات کیے گئے، لاشیں آتی رہیں، مردوں کی، عورتوں کی، نوجوانوں کی چھوٹے معصوم بچوں کی، کٹی پھٹی، جلی ہوئیں، گولیوں سے چھلنی، ٹکڑوں میں بٹی، ہر طرح کی لاشیں....
میں انہیں سامان ہی کی طرح برتتا تھا، ان کے پیروں میں نمبر والے ٹیگ لگانا، شناخت ہوچکی ہو تو نام لکھنا اور پھر طویل دراز کھول کر لاش اس میں رکھ دینا..
شناخت کے لئے آئے ہوئے لوگوں کو دراز کھول کھول کر سامان کی مانند ان کا دیدار کرانا، یہی میرا معمول تھا-
شاید آپ مجھے بے حس کہیں گے، لیکن مردوں کے درمیان رہنے والا بے حس کیسے کہلائے گا؟؟
اوہ!!! شاید آپ انہیں یہاں تک پہنچانے والوں کو بے حس نہیں کہہ سکتے، شاید آپ کی زبان موٹی ہوجاتی ہوگی یا آپ کے قلم خوف کے مارے خشک ہو جاتے ہوں گے!! یا اور کوئی وجہ ہوگی شاید میں نہیں جانتا، میں جاننا بھی نہیں چاہتا....
بیس سال گزر گئے، میں تنہائی کے اس جنگل میں اب بھی اکیلا تھا، کچھ برسوں تک تو میں نے اس تنہائی کو مٹانے کے لیے کوشش بھی کی مگر شاید ہماری نسل اب مجھ پر ہی ختم ہونے والی تھی، میرا گھر اب بھی ویران تھا مگر مردہ گھر کی رونقیں بڑھتی جا رہی تھیں، اب یہ مردہ گھر بہت چھوٹا محسوس ہونے لگا تھا، حکام بالا سے شکایتیں ہوئیں اور پھر ایک بار اس کی توسیع کا کام شروع ہوگیا، اب کی بار اس کی استطاعت بہت بڑھا دی گئی تھی،ویسے بھی آج شہروں کے بڑھنے کی رفتار سے زیادہ تیز قبرستانوں کے رقبے بڑھتے جا رہے ہیں، مردہ گھر میں سیکڑوں کی تعداد میں نئے دراز اوپر تلے بنائے گئے، برف کی سلوں والا طریقہ بھی ختم ہوگیا، اب ٹھنڈا، گہرا دھواں چھوڑتے نئے اور جدید دراز تعمیر ہوئے،پہلے لاشیں جلد کریا کرم کے لیے بھیج دی جاتی تھیں، مگر نئے تعمیر شدہ دراز اتنے سرد ہوجاتے تھے کہ کسی زندہ انسان کو بھی منٹوں میں لاش میں تبدیل کر دیں - اب ان میں لاشیں ہفتوں بسا اوقات مہینوں محفوظ رہتی تھیں -
اب یہ مردہ گھر ہمیشہ آباد رہنے لگا تھا، الگ الگ مذہب اور دھرم کے لوگ ایک سے لباس میں یہاں خاموشی سے اپنے آخری سفر کے انتظار میں پڑے رہتے، یہاں تو کوئی ایک دوسرے سے جھگڑتا بھی نہیں، نہ کسی کو شکایت ہوتی کہ میرے بازو میں الگ دھرم یا دوسری جاتی والوں کو کیوں رکھا گیا..
بے حد شانت اور شیتل ماحول تھا!..
مردوں کے جسموں سے نکلی ہوئی ٹھنڈک پورے ماحول میں پھیلی ہوتی..
یقین جانیے اگر آپ بھی یہاں کام کر رہےہوتے تو یہی چاہتے کہ کاش پوری دنیا مردہ گھر بن جائے...
ہے نا عجیب خواہش!!!!
مگر مجھے تو یہی سچ لگتا ہے...
رکیے!!!
شاید میں نے روشنی کا ذکر نہیں کیا...
پڑوس کے آشا نگر کی روشنی...
چھوٹی سی کمزور مگر بہت ہی پیاری سی روشنی..
وہ اکثر تتلیاں پکڑنے ادھر آ جایا کرتی تھی، مگر میرے لیے تو وہ سورج کی ایک تیز اور چمکدار کرن ثابت ہوئی، جس نے مردوں سے مجھ میں در آئی برف کو پگھلا دیا، وہ اکثر میرے پاس رک جاتی اور معصوم سی باتیں کرتی جاتی، دھنک رنگ باتیں، ایسی شفاف جیسے اس میں مکر و فریب کا شائبہ بھی نہ ہو، اس کی باتوں کو سن کر میرے ہونٹ پھیل جاتے.. شاید آپ مسکراہٹ کہتے ہوں گے .. لیکن میرے لیے تو ہونٹوں کا پھیلنا ہی تھا اور اس مردہ گھر میں ہونٹوں کا یہ پھیلاؤ بھی پہلی بار ہی تھا-
روشنی کی آمد سے میرے وجود کے بند روزنوں اور کواڑوں کی درز سے ہلکی ہلکی نور کی ایک لکیر اندر تک پہنچ رہی تھی-
لاشوں سے نمٹنے کی بعد مجھے صرف روشنی کا انتظار ہوتا، کسی روز اگر وہ نہیں آتی تو میں سارا دن بے چین رہتا..
ملک میں الیکشن کے نتائج آنا شروع ہوگئے تھے، سارا ملک نفرت کے مخصوص رنگ میں رنگ چکا تھا، انسانوں کے محافظ تماشا دیکھ رہے تھے اور جانوروں کے محافظ حکومت میں آ چکے تھے-
جانوروں کے تحفظ کے نام پر انسانوں کو مارا جانے لگا-
کئی دنوں سے روشنی بھی نہیں آئی تھی کیونکہ آشا نگر کے حالات بھی کافی خراب ہو چکے تھے،
ایک مخصوص چہرے اور پہچان والوں کو ان کے گھروں سے گھسیٹ کر باہر لایا گیا اور پھر انہیں پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا، ان کی لاشیں بھی یہیں آئیں، کچلی ہوئیں، اور بے چہرہ، صرف آنکھیں تھیں اور ان میں منجمد خوف...
میں پھر روشنی کا انتظار کرنے لگا، یہ روشنی نظر کیوں نہیں آتی؟؟ صبح کو سورج بھی مجھے اندھیرا ہی بانٹتا ہوا نظر آتا..
روشنی شاید آج آجائے گی...
29اپریل 2017
میری سنائی ہوئی کہانی کا آج آخری دن ہے- فضا میں صبح سے ہی فضا میں گھٹن اور امس ہے، درختوں کے پتے تک خوف سے رکے ہوئے اور بے حس و حرکت ہیں..
آشا نگر سے کچھ خبریں آئی ہیں..
آشا نگر میں جانوروں کے تحفظ کرنے والوں کی تعداد بڑھ چکی ہے...
شاید روشنی بھی خوفزدہ ہو گئی ہے ، اسی لئے اتنے دنوں سے وہ نہیں آئی...
لاشیں پھر آنا شروع ہوگئی ہیں ،آج ان کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے ...
میں ایک ایک کر کے ان کو ٹیگ لگاتا اور دراز میں رکھتا جا رہا ہوں ....
اچانک میری نظر سفید کپڑے کے باہر لٹکتے ہوئے ایک ہاتھ پر پڑتی ہے ، پہلے تو میں اسے نظروں کا دھوکا سمجھتا ہوں ، مگر پھر بھی ہاتھ کا وہ نشان میرے ذہن سے چپک سا گیا ہے ، میں اسے جھٹلانا چاہتا ہوں مگر وہ نشان جونک کی طرح مجھ سے چمٹا ہوا ہے، شاید وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا ہے.
میں لرزتے قدموں سے آگے بڑھتا ہوں، ایک ایک قدم سو سو من کا ہورہا ہے ، میں اس لاش کے قریب پہنچتا ہوں، لاش پر پڑے ہوئے سفید کپڑے کو ہٹانے کی کوشش سے تو مجھے یوں محسوس ہوتا کہ وہ کپڑا نہیں لوہے کی وزنی چادر ہے..
یکبارگی میں جھٹکے سے کپڑے کو پرے کر دیتا ہوں .
آہ...
روشنی...
وہ کمزور سی روشنی سی..
وہ بجھ چکی ہے ...
روشنی کی کہانی ختم ہو چکی ہے..
میری کہانی کے بھی کچھ ہی پل بچے ہوئے ہیں..
گوارا کر لیں...
میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر
میرے قدم بے جان سے ہو گئے ہیں ، مٹھیاں بھنچی ہوئیں ہیں..
میں باہر نظریں دوڑاتا ہوں ..
سورج گھنا کالا اندھیرا اگل رہا ہے..
میں روشنی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر ایک دراز کی جانب بڑھ جاتا ہوں ...
میرے ہاتھ شل ہو چکے ہیں، میرا خون برف کی طرح سرد ہو چکا ہے میرا جسم بھی اکڑ چکا ہے، اب اگلی لاش نجانے کب آئے گی اور لوگ مجھ تک اسی طرح پہنچیں گے جیسے میں اپنے باپ تک پہنچا تھا-